27 فیصد نوجوان AI کو دوست سمجھ کر دل کی باتیں کرتے ہیں! تحقیق

لاہور: عالمی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ جنریشن زی کے ایک چوتھائی سے زائد افراد مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے ایسے گفتگو کرتے ہیں جیسے وہ کسی دوست سے بات کر رہے ہوں، جبکہ نوجوان اے آئی کو معلومات اور تعلیم کے ساتھ ساتھ جذباتی سہارا اور ذاتی معاملات پر مشورے کے لیے بھی استعمال کررہے ہیں۔

کاسپرسکی کے 7 ہزار 200 افراد پر کیے گئے عالمی سروے کے مطابق جنریشن زی دیگر عمر کے گروپس کے مقابلے میں اے آئی کا زیادہ فعال استعمال کرتی ہے۔ سروے میں 27 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ اے آئی کو دوست کی طرح استعمال کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت محض کام انجام دینے والے ٹول کے بجائے جذباتی مدد اور رفاقت کے ایک ذریعے کے طور پر بھی استعمال ہورہی ہے۔

تحقیق کے مطابق جنریشن زی کے 28 فیصد افراد ایسے ذاتی مسائل پر بھی اے آئی سے مشورہ کرتے ہیں جنہیں وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ شیئر کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔

تقریباً 47 فیصد شرکا نے بتایا کہ وہ روزانہ یا باقاعدگی سے اے آئی استعمال کرتے ہیں، جو مختلف عمر اور سماجی گروپس میں سب سے زیادہ شرح ہے۔

نوجوانوں میں 56 فیصد افراد نے اے آئی سے معلومات حاصل کرنے، 49 فیصد نے تعلیم، 47 فیصد نے نئے خیالات پیدا کرنے جبکہ 39 فیصد نے کام سے متعلق امور کے لیے اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کا بتایا۔

تاہم اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود نوجوانوں کی بڑی تعداد اس سے وابستہ سکیورٹی خطرات کو کم سمجھتی ہے۔ صرف 42 فیصد جنریشن زی صارفین باقاعدگی سے حفاظتی اقدامات اختیار کرتے ہیں، جن میں قابل اعتماد ذرائع سے معلومات کی تصدیق اور حساس معلومات شیئر کرنے سے گریز شامل ہے۔

مزید 52 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ یہ احتیاطیں صرف کبھی کبھار کرتے ہیں، جبکہ 6 فیصد کسی قسم کے حفاظتی اقدامات نہیں کرتے۔

کاسپرسکی کے اے آئی ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر کے گروپ مینیجر ولادیسلاو تشکانوف نے خبردار کیا کہ اے آئی کے ساتھ ذاتی نوعیت کی گفتگو کو نجی یا مکمل طور پر قابل اعتماد گفتگو نہیں سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے صارفین پر زور دیا کہ اے آئی سے حاصل ہونے والی معلومات کی تصدیق کریں اور اپنی ذاتی معلومات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔