نئی دہلی (آئی این پی) بھارت کی ریاست راجستھان میں ایک کسان کو خاندان سے رقم چھپانا اس وقت مہنگا پڑ گیا جب کھیت میں دفن کیے گئے 5 لاکھ روپے تقریباً ایک سال بعد دیمک کی نذر ہوگئے۔ واقعے کی حالیہ رپورٹ مقامی ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کسان نے تقریباً ایک سال قبل اپنی زمین کا ایک ٹکڑا 5 لاکھ روپے میں فروخت کیا تھا۔ اسے خدشہ تھا کہ گھر میں رقم رکھنے کی صورت میں اس کے بیٹے اسے خرچ کر دیں گے، اس لیے اس نے رقم پلاسٹک کے تھیلے میں ڈال کر کھیت میں گڑھا کھود کر دفن کردی۔
کچھ عرصے بعد کسان رقم چھپانے کی جگہ بھول گیا۔ جب اسے گھر کی تعمیر کے لیے پیسوں کی ضرورت پڑی تو اس نے پورے کھیت میں رقم تلاش کی، تاہم کامیابی نہ ملی۔ بعد ازاں اس نے اہلخانہ کو بھی بتایا اور سب نے مل کر رقم تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر کئی ماہ تک رقم کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔
رپورٹ کے مطابق مون سون کے دوران کھیت میں کام کرتے ہوئے پلاسٹک کا تھیلا دوبارہ نظر آیا۔ کسان اور اس کے اہلخانہ نے تھیلا کھولا تو اندر موجود زیادہ تر نوٹ دیمک کے باعث بری طرح تباہ ہو چکے تھے۔
خاندان نے امید کے ساتھ خراب نوٹ بینک لے جانے کی کوشش کی، تاہم مقامی بینک اور ضلعی مرکزی شاخ نے شدید خراب حالت کے باعث رقم تبدیل کرنے سے انکار کردیا۔ یوں کسان کی برسوں کی جمع پونجی تقریباً ضائع ہوگئی۔






