سائنس جب اندر جھانکتی ہے تو ایٹم سے بھی چھوٹے راز کھول دیتی ہے، اور جب باہر دیکھتی ہے تو کائنات کے اربوں گنا بڑے مظاہر ہمارے سامنے لے آتی ہے۔ حیرت کا یہ سفر ہر سال نئے انکشافات کے ساتھ اور گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
اب ماہرین فلکیات نے زمین سے اربوں نوری سال دور ایک ایسا عجیب و غریب فلکی جسم دریافت کیا ہے جس نے بلیک ہول کے بارے میں ہمارا پورا تصور ہلا کر رکھ دیا ہے۔
فلکیات دان اسے ابھی “بلیک ہول ستارہ” یا “کوئی نئی چیز” کہہ رہے ہیں کیونکہ یہ بالکل ویسا نہیں ہے جیسا ہم نے پہلے کبھی دیکھا۔ اس کی اصل حقیقت کا تعین کرنا ابھی باقی ہے۔
یہ نیا مظہر حیران کن حد تک بڑا ہے۔ اس کے اندر زمین جیسی ڈیڑھ ارب دنیائیں سما سکتی ہیں۔ سائز کے لحاظ سے یہ پورے نظام شمسی جتنا پھیلا ہوا ہے۔ دوربینوں میں یہ زمین سے ایک شاندار سرخ روشنی کی طرح چمکتا ہوا نظر آ رہا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت کائنات کو سمجھنے کے ہمارے پرانے ماڈلز پر نئے سوال کھڑے کر رہی ہے۔






