ملک بھر میں مختلف ذرائع سے بجلی کی فی یونٹ پیداواری لاگت کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کردی گئیں۔
دستاویزات کے مطابق واپڈا کے ڈیمز سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت نجی آئی پی پیز کے مقابلے میں نمایاں کم ہے۔ تربیلا ہائیڈل پاور پروجیکٹ سے بجلی 2 روپے 70 پیسے فی یونٹ، جبکہ منگلا سے 3 روپے 75 پیسے فی یونٹ میں تیار کی جارہی ہے۔ تمام ڈیمز کی مجموعی اوسط لاگت 5 روپے 39 پیسے فی یونٹ بتائی گئی ہے۔
سینیٹ میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق چشمہ ایٹمی بجلی گھر سے بجلی کی لاگت 6 روپے 76 پیسے فی یونٹ، جبکہ مقامی تھر کوئلے سے 19 روپے 3 پیسے فی یونٹ ہے۔
دستاویزات کے مطابق درآمدی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے ساہیوال کول پلانٹ کی فی یونٹ لاگت 34 روپے 17 پیسے اور پورٹ قاسم کی 32 روپے 16 پیسے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ نجی آئی پی پیز کی مجموعی لاگت 34 روپے فی یونٹ سے بھی تجاوز کرگئی ہے۔
حکومت کی جانب سے واپڈا کو 34.5 ارب یونٹس بجلی کے عوض 186 ارب روپے ادا کیے گئے، جبکہ نجی آئی پی پیز کو 49.8 ارب یونٹس کے لیے 1040 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔ جاری مالی سال میں آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں 1300 ارب روپے سے زائد ادا کیے جانے کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔
چینل: نیوز اپڈیٹ






