عالمی مارکیٹ میں بدھ کے روز سونے کی قیمت میں اضافہ جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ پالیسی فیصلے پر مرکوز ہے، جبکہ شرح سود میں اضافے کی توقع بڑی حد تک پہلے ہی مارکیٹ میں شامل ہوچکی ہے۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.8 فیصد اضافے کے بعد 4,328.39 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔ اس سے قبل پیر کے روز سونے کی قیمت ایک ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آگئی تھی۔ دوسری جانب دسمبر کی ترسیل کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز 0.9 فیصد کمی کے ساتھ 4,369.50 ڈالر فی اونس پر رہے۔
مارکیٹ تجزیہ کار فرینک وال بام کے مطابق اگر امریکی فیڈرل ریزرو کا مؤقف سخت رہا تو سونے کی قیمت پر مزید دباؤ آسکتا ہے، جبکہ نرم پالیسی کے اشارے شرح سود میں اضافے کی توقعات کم کرکے سونے کی قیمت کو بحال ہونے میں مدد دے سکتے ہیں۔
سرمایہ کار تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سونا عموماً مہنگائی کے خلاف تحفظ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم شرح سود میں اضافہ سونے جیسے غیر منافع بخش اثاثے کو رکھنے کی مواقعی لاگت بڑھا دیتا ہے۔
کومرز بینک کے مطابق موجودہ حالات میں سونے کی قیمت پر زیادہ دباؤ نہ آنا قدرے حیران کن ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ مستقل مالیاتی خدشات سونے کی قیمت کو سہارا دے سکتے ہیں، جن کی عکاسی طویل مدتی حکومتی بانڈز کی بلند پیداوار اور امریکا میں حالیہ سیاسی خطرات میں اضافے سے ہوتی ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی اسپاٹ قیمت 1.5 فیصد اضافے کے بعد 64.60 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 0.7 فیصد اضافے کے بعد 1,788.25 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 1.6 فیصد اضافے کے بعد 1,309.80 ڈالر فی اونس ہوگئی۔





