ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جہاز رانی کی مشکلات کم کرنے کے حوالے سے مذاکرات بحال ہونے کے بعد بدھ کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 ڈالر فی بیرل سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 2.30 ڈالر یا 2.6 فیصد کمی کے بعد 86.28 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 2.08 ڈالر یا 2.53 فیصد کمی کے بعد 80.29 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ دونوں بینچ مارکس کی قیمتوں میں منگل کو بھی 3 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق مثبت پیش رفت ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی امید نے سرمایہ کاروں کو تیل کی فروخت کی جانب مائل کیا، تاہم مستقبل کی صورتحال سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث کچھ سرمایہ کاروں نے کم قیمتوں پر تیل خریدنا شروع کردیا، جس سے قیمتوں میں مزید کمی محدود رہی۔
ایران نے تصدیق کی ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری ٹریفک کو منظم کرنے کے لیے کئی ہفتوں سے وقفے وقفے سے بات چیت جاری ہے۔
ایران اور عمان کے مطابق دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک ’مشترکہ عارضی بحری راہداری‘ کے قیام اور اسے بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے معاملے پر بھی بات چیت کی ہے۔ تاہم مذاکرات کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت اب بھی معمول سے کم ہے۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے کلیپر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق منگل کو صرف 5 کمرشل جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ گزشتہ 10 دن کی اوسط تقریباً 15 جہاز روزانہ رہی ہے۔
آبنائے ہرمز جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے استعمال ہوتی تھی، اس لیے اس راستے میں بحری آمدورفت معمول پر آنے کی صورت میں عالمی تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔






