گندم کی شدید قلت کے باعث راولپنڈی سمیت ڈویژن بھر میں آٹے کا بحران پیدا ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں آٹے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ سرکاری آٹا بھی عام شہری کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 10 کلو سرکاری آٹے کے تھیلے کی قیمت 900 روپے سے بڑھ کر 1100 روپے، جبکہ 20 کلو سرکاری آٹے کی قیمت 1800 روپے سے بڑھ کر 2200 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح مختلف فلور ملز کے 15 کلو آٹے کا تھیلا 1800 روپے سے بڑھ کر 2380 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق 80 کلو فائن آٹے کی بوری کی قیمت 10,400 روپے سے بڑھ کر 13,400 روپے ہو گئی ہے، جبکہ صرف گزشتہ چار روز کے دوران اس میں 3 ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اسی طرح لال آٹے کی 80 کلو بوری 9 ہزار روپے سے بڑھ کر 12,200 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مارکیٹ میں گندم کی قلت کے باعث دستیاب گندم بھی مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہے، جہاں 40 کلو گندم کی قیمت 5,550 روپے سے بڑھ کر 6,600 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
آٹے اور گندم کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے باعث عام شہری شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر نان بائی ایسوسی ایشن نے آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔






