تیل برآمد کرنے والے ممالک کے اتحاد اوپیک پلس (OPEC+) کے ذرائع کے مطابق تنظیم ستمبر سے خام تیل کی یومیہ پیداوار میں تقریباً ایک لاکھ 88 ہزار بیرل اضافے کی منظوری دینے پر غور کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ اضافہ 2023 میں رضاکارانہ طور پر کی گئی پیداوار میں کمی کو مرحلہ وار ختم کرنے کے منصوبے کا آخری مرحلہ ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ستمبر کے بعد اوپیک پلس رواں سال کے باقی عرصے میں پیداوار بڑھانے کے عمل کو عارضی طور پر روک سکتا ہے۔
اوپیک پلس کے اہم رکن ممالک میں سعودی عرب، روس، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان اور عمان شامل ہیں، جو رواں سال ماہانہ بنیادوں پر پیداواری کوٹے میں اضافہ کرتے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تنظیم رکن ممالک کی پیداواری صلاحیت کا جائزہ بھی لے رہی ہے تاکہ 2027 کے لیے نئے پیداواری کوٹے مقرر کیے جا سکیں۔ بعض ممالک، خصوصاً عراق، اپنی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کے باعث زیادہ کوٹے کے خواہاں ہیں۔
توانائی ماہرین کے مطابق اوپیک پلس کے ممکنہ فیصلے پر عالمی تیل کی قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ اس کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ پر پڑ سکتے ہیں۔






