اسلام آباد: قومی اسمبلی نے مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، جبکہ اپوزیشن کے واک آؤٹ کے باعث حکومت کو فنانس بل کی منظوری میں نسبتاً آسانی رہی۔ بجٹ میں اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم مسترد کر دی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت کی خالص آمدن کا ہدف 11 ہزار 751 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 8 ہزار 848 ارب روپے منتقل کیے جائیں گے۔
اتحادی حکومت نے اپنا مسلسل تیسرا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی سے منظور کروایا۔ مختلف اپوزیشن اراکین کی جانب سے پیش کردہ ترامیم ایوان نے مسترد کر دیں، جبکہ بعض مجوزہ ترامیم واپس بھی لے لی گئیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی متعدد سفارشات کو بجٹ کا حصہ بنایا گیا۔ کمیٹی کی سفارش پر پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے متعلق شق 3 حذف کر دی گئی، جبکہ اثاثے ضبط کرنے سے قبل متاثرہ فریق کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق دینے کی تجویز بھی فنانس بل میں شامل کر لی گئی۔
بجٹ کے تحت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) سمیت دیگر رجسٹرڈ ایئرلائنز کو طیاروں اور ان کے پرزہ جات کی درآمد پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔
فنانس بل میں شامل ترمیم کے مطابق اسٹیٹ بینک کو بینکاری ڈیٹا کا مرکزی ورچوئل ذخیرہ قائم کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، تاہم شیڈول بینکوں سے شہریوں کا ڈیٹا ایف بی آر کو فراہم نہیں کیا جائے گا۔
بجٹ میں 75 ہزار سے ایک لاکھ 10 ہزار ڈالر مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 30 فیصد ایکسائز ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ اس سے زیادہ مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں پر 40 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
اسی طرح 2 ہزار سے 3 ہزار سی سی گاڑیوں پر 30 فیصد اور اس سے بڑی لگژری گاڑیوں پر 40 فیصد ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، جبکہ بعض کیٹیگریز میں 92 فیصد اسپیشل ایکسائز ڈیوٹی بھی نافذ ہوگی۔
بجٹ کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس آج (بدھ) صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






