پیپلز پارٹی نے ایل اے-27 میں پولنگ ملتوی کرنے کو مبینہ دھاندلی قرار دے دیا، نتائج مسترد، قانونی کارروائی اور احتجاج کی دھمکی

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سردار جاوید ایوب نے آزاد جموں و کشمیر کے حلقہ ایل اے-27 کے انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے نتائج مسترد کر دیے۔ مظفرآباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ایل اے-27 میں پولنگ ملتوی کر کے مسلم لیگ (ن) کو فائدہ پہنچانے کی راہ ہموار کی۔

سردار جاوید ایوب نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے صبح 10 بجے تک الیکشن کمیشن سے پولنگ شروع کرانے کا مطالبہ کیا، مگر کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ ان کے مطابق ایک ہی مرکزی شاہراہ سے منسلک دو انتخابی حلقوں میں ایک طرف پولنگ جاری رہی جبکہ دوسری جانب پولنگ ملتوی رکھی گئی، جو سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کو اندازہ تھا کہ وہ ایل اے-27 میں تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ اصل مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی اور آئی پی پی کے درمیان تھا، اسی لیے مبینہ طور پر پولنگ ملتوی کی گئی۔

جاوید ایوب نے الزام لگایا کہ انتخابی روز پولنگ عملہ ایک امیدوار کے گھر سے برآمد ہوا، جس کی شکایت الیکشن کمیشن کو دی گئی مگر کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ متعدد پولنگ اسٹیشنوں پر پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو فارم 24 فراہم نہیں کیا گیا، جبکہ بعض مقامات پر ہاتھ سے تیار کردہ فارم دیے گئے جو الیکشن کمیشن کے سرکاری فارم نہیں تھے۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ سرلی سچہ منہا پولنگ اسٹیشن پر دیگر امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال کر بیلٹ پیپرز پر مبینہ طور پر ٹھپے لگائے گئے، تاہم فوری شکایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولنگ عملہ ریٹرننگ آفیسر کے پاس جانے کے بجائے ایک امیدوار کے گھر جاتا رہا، جو انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

سردار جاوید ایوب نے کہا کہ کسی بھی پولنگ اسٹیشن پر فوج کی نگرانی میں انتخابات نہیں ہوئے بلکہ صرف پنجاب پولیس کے اہلکار تعینات تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سریاں پولنگ اسٹیشن سے بیلٹ پیپرز کے 59 سیریل نمبر غائب ہیں، مگر اس بارے میں کسی نے جواب نہیں دیا۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر پولنگ عملے نے سرکاری مہریں استعمال کرنے کے بجائے سادہ کاغذوں پر دستخط کیے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس انتخاب کو تسلیم نہیں کرتی اور تمام مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف قانونی فورمز سے رجوع کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر الیکشن کمیشن نے ان کے تحفظات کا ازالہ نہ کیا تو پارٹی احتجاج پر مجبور ہوگی، اور اگر پاکستان پیپلز پارٹی سڑکوں پر نکلی تو حالات کو سنبھالنا حکومت کے لیے مشکل ہو جائے گا۔