آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے مختلف انتخابی حلقوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، انتخابی عمل میں رکاوٹوں اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کو متعدد ہنگامی درخواستیں ارسال کرتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پیپلز پارٹی آزاد کشمیر الیکشن سیل کے انچارج عبدالشكور کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں میں مختلف حلقوں میں بیلٹ باکس کے غیر قانونی استعمال، مبینہ بیلٹ اسٹفنگ، پولنگ عملے کی عدم دستیابی، پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنوں میں داخل نہ ہونے دینے، سرکاری ملازم کے بطور پولنگ ایجنٹ تعینات ہونے اور ووٹروں کی آمدورفت میں رکاوٹ جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست کے مطابق حلقہ LA-30 کے بناو لنگاہ پولنگ اسٹیشن پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مبشر منیر اعوان کی جانب سے شکایت کی گئی ہے کہ مبینہ طور پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے پولنگ اسٹیشن کے اندر سے بیلٹ باکس باہر منتقل کر دیا اور پولنگ اسٹیشن سے باہر بیلٹ پیپرز پر مہریں لگا کر منظم دھاندلی کی جا رہی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ عمل آزاد کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس سے انتخابی عمل کی شفافیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتخابی حکام کو موقع پر بھیجا جائے، بیلٹ باکس کو تحویل میں لیا جائے، متاثرہ بیلٹ پیپرز کو سیل کیا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے۔
حلقہ LA-28 کے امیدوار سید بازل نقوی کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ چار یونین کونسلوں کے 71 پولنگ اسٹیشنوں پر مقررہ وقت تک الیکشن کمیشن کا عملہ نہیں پہنچا، جس کے باعث پولنگ شروع ہی نہ ہو سکی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ صبح سے ووٹرز پولنگ اسٹیشنوں پر انتظار کر رہے ہیں مگر انہیں ووٹ ڈالنے کا موقع نہیں مل رہا، جس سے ہزاروں شہری اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ پولنگ عملہ فوری تعینات کیا جائے، متاثرہ پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کا وقت بڑھایا جائے اور اس انتظامی غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
اسی طرح حلقہ LA-32 سے امیدوار اشفاق ظفر کی جانب سے دو الگ درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں۔ پہلی درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن نمبر 48، 52 اور 54 پر پریذائیڈنگ افسران نے پیپلز پارٹی کے باقاعدہ مقرر کردہ پولنگ ایجنٹس کو، تقرری نامے اور اصل شناختی کارڈ موجود ہونے کے باوجود، پولنگ اسٹیشنوں کے اندر بیٹھنے اور اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کی اجازت نہیں دی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ اقدام آزاد کشمیر الیکشن ایکٹ 2020 کی دفعہ 56 اور الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔
حلقہ LA-32 ہی سے دوسری درخواست میں پولنگ اسٹیشن نمبر 24 پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی جانب سے مبینہ بیلٹ اسٹفنگ کا الزام لگایا گیا ہے۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ “نصرت” نامی ایک سرکاری ملازم مسلم لیگ (ن) کے پولنگ ایجنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے، جو ضابطہ اخلاق اور سرکاری ملازمین کے قواعد کی خلاف ورزی ہے۔ الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دونوں معاملات کی فوری تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
حلقہ LA-34 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار کرنل قادیر کی جانب سے شکایت درج کرائی گئی ہے کہ کینٹونمنٹ اور شیرانوالہ گیٹ پولنگ اسٹیشنوں پر ان کے پولنگ ایجنٹس کو اس بنیاد پر اندر داخل ہونے سے روک دیا گیا کہ وہ متعلقہ علاقے کے رہائشی نہیں ہیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابی قوانین میں پولنگ ایجنٹ کے لیے مقامی رہائشی ہونا لازمی قرار نہیں دیا گیا، لہٰذا یہ اقدام غیر قانونی ہے۔ الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ پریذائیڈنگ افسران کو فوری ہدایات جاری کی جائیں اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ادھر حلقہ LA-31 سے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری لطیف اکبر کی جانب سے الیکشن کمیشن کو بھیجی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ رنگلہ-کٹکیر روڈ بند ہونے کے باعث گزشتہ رات سے ووٹرز کو لے جانے والی پچاس سے زائد گاڑیاں راستے میں پھنسی ہوئی ہیں، جس کی وجہ سے متعدد ووٹرز اپنے پولنگ اسٹیشنوں تک نہیں پہنچ سکے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سڑک فوری طور پر کھلوائی جائے، پھنسے ہوئے ووٹرز کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے، متاثرہ پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کے اوقات میں توسیع کی جائے اور واقعے کی تحقیقات کر کے ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی تمام درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ واقعات انتخابی عمل کی شفافیت، غیر جانبداری اور عوام کے حقِ رائے دہی کو متاثر کر سکتے ہیں، لہٰذا الیکشن کمیشن فوری نوٹس لے، متعلقہ حکام کو کارروائی کی ہدایات جاری کرے، ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ تمام اہل ووٹرز بلا رکاوٹ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔






