انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران بھارت سے اسرائیل کو اسلحہ، گولہ بارود، فوجی پرزے اور دیگر دفاعی سامان کی فراہمی جاری رہی، حالانکہ تنظیم کے مطابق خدشہ موجود تھا کہ یہ سامان غزہ میں فوجی کارروائیوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ بھارت نے گزشتہ چند برسوں میں اسرائیل کے دفاعی شعبے کے ساتھ قریبی اور منافع بخش شراکت داری قائم کی ہے اور اب وہ ان سپلائی چینز کا اہم حصہ بن چکا ہے جو اسرائیلی دفاعی صنعت کو سامان فراہم کرتی ہیں۔
تنظیم کے تحقیق کاروں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کے بعد بھارت سے اسرائیل بھیجی جانے والی 2,596 تجارتی شپمنٹس کا تجزیہ کیا، جن میں اسلحہ، گولہ بارود، فوجی پرزے اور دیگر متعلقہ سامان شامل تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی کمپنیوں نے چھوٹے ہتھیاروں کے کم از کم 3 لاکھ 90 ہزار 516 پرزے، دھماکہ خیز ہتھیاروں، ڈرون وارہیڈز اور توپ کے گولوں کے لیے 5 لاکھ 64 ہزار 970 پرزے اور اجزا، جبکہ فوجی گاڑیوں کے 298 پرزے اسرائیلی سپلائرز کو فراہم کیے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق دستیاب تجارتی شپمنٹ کے ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ یہ سامان اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کو بھیجا گیا، جنہوں نے بعد ازاں اسے اسرائیلی فوج تک پہنچایا۔
تنظیم کی سیکرٹری جنرل نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اسلحے اور فوجی سامان کی برآمدات فوری طور پر بند کرے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں ہتھیاروں کی فراہمی بین الاقوامی انسانی قانون اور جنیوا کنونشنز کے تحت ریاستوں پر عائد ذمہ داریوں سے متصادم ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں پیش کیے گئے دعوؤں پر خبر لکھے جانے تک بھارتی حکومت یا اسرائیلی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے الزامات اور اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔






