ایرانی میڈیا نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی توانائی تنصیبات کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے سے متعلق رپورٹس کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو ایران جوابی کارروائی میں خطے کے اہم توانائی مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی *فارس* کی رپورٹ کے مطابق امریکی میڈیا میں ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران نے اس کے جواب میں خطے اور اسرائیل میں واقع اہم توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا تو اس کے عالمی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں خطے کے مختلف ممالک کی اہم توانائی تنصیبات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جنہیں ممکنہ طور پر خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی غوار آئل فیلڈ دنیا کی سب سے بڑی تیل کی فیلڈ ہے، جہاں اندازاً 75 سے 83 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ اسی طرح ابقیق اور خریص کی تنصیبات بھی سعودی عرب کے تیل برآمدی نظام کا اہم حصہ اور دنیا کے بڑے آئل پروسیسنگ مراکز میں شمار ہوتی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی زکوم آئل فیلڈ، جو دنیا کی دوسری بڑی آف شور آئل فیلڈ ہے، کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پر حملے کی صورت میں امارات کی تیل برآمدات شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح الرویس ریفائنری، جس کی یومیہ ریفائننگ صلاحیت تقریباً آٹھ لاکھ بیرل ہے، کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں قطر کے نارتھ فیلڈ کو دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس کا ذخیرہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس میں تقریباً 48 کھرب مکعب میٹر گیس موجود ہے، جو دنیا کے ثابت شدہ گیس ذخائر کا تقریباً 25 فیصد بنتی ہے۔ اس کے علاوہ راس لفان کو عالمی ایل این جی تجارت کا ایک اہم مرکز قرار دیا گیا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد ایل این جی تجارت ہوتی ہے۔






