وسائل ناکافی ہیں، امریکی جنرل کا حکومت کو انتباہ

امریکی فوج کی یورپی کمان (ای یو کام) کے سربراہ جنرل الیکسس گرنکیوچ نے پینٹاگون کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں سے بچانے کے لیے موجود بحری وسائل ناکافی ہیں۔

امریکی اخبار *واشنگٹن پوسٹ* کی رپورٹ کے مطابق جنرل گرنکیوچ نے رواں ہفتے پینٹاگون کی اعلیٰ قیادت کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ اگر امریکی بحریہ کا ایک مزید طیارہ بردار جنگی جہاز فراہم نہ کیا گیا تو انہیں اسرائیل کے بجائے امریکی سرزمین کے دفاع کو ترجیح دینا ہوگی۔

ایک امریکی دفاعی عہدیدار کے مطابق محدود وسائل اور مختلف محاذوں پر بڑھتی ہوئی ضروریات کے باعث فوجی کمانڈرز کی جانب سے اس نوعیت کی تحریری تنبیہ غیر معمولی بات نہیں، بلکہ اس کا مقصد پالیسی سازوں کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔

یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری پانچ ماہ پر محیط کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ امن معاہدہ معطل ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے، جس سے امریکی فضائی دفاعی نظام اور میزائل ذخائر پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز کئی برس سے مشرقی بحیرۂ روم میں اسرائیل کے دفاعی نظام کا اہم حصہ رہے ہیں۔ جدید ریڈار اور میزائلوں سے لیس یہ جہاز ایران اور ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے جواب میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے فیصلے نے بھی امریکی بحریہ پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق اسپین کے شہر روٹا میں امریکی بحریہ کے پانچ جنگی جہاز تعینات ہیں، جبکہ چھٹا جہاز بھی رواں سال اسی علاقے میں پہنچنے والا ہے۔ تاہم ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کے باعث ان جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے وسائل کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق جمعہ تک یو ایس ایس پال اگنیشس اور یو ایس ایس روزویلٹ مشرقی بحیرۂ روم میں موجود تھے، جبکہ یو ایس ایس آرلی برک، یو ایس ایس بلکلی اور یو ایس ایس آسکر آسٹن روٹا میں تعینات تھے۔

بحیرۂ عرب میں بھی امریکا کے دو طیارہ بردار جہاز، یو ایس ایس جارج ڈبلیو بش اور یو ایس ایس ابراہم لنکن سمیت کم از کم 15 جنگی جہاز موجود ہیں، جو تجارتی جہازوں کے تحفظ اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے مشن پر تعینات ہیں۔

ادھر بحیرۂ احمر میں یو ایس ایس گونزالیز تعینات ہے، جہاں یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی جہازوں کی ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سکیورٹی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ امریکی عوام میں بتدریج غیر مقبول ہوتی جا رہی ہے، جبکہ کانگریس میں دونوں بڑی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان جنگ کے خاتمے کے لیے واضح حکمت عملی نہ ہونے پر ٹرمپ انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

دوسری جانب *وال اسٹریٹ جرنل* نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی فوج کو ایران پر تازہ حملوں کی ہدایت دے چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، اور یہ حملے ویک اینڈ کے اختتام تک کسی بھی وقت کیے جا سکتے ہیں۔

ان رپورٹس کے بعد ایران نے امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر توانائی تنصیبات یا کسی بھی اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔