//

رپورٹ آنے تک اپنا احتجاج اور مارچ ختم کر دیا جائے، بلاول بھٹو زرداری

کوٹلی (آئی این پی): پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جب بھی کوٹلی آتا ہوں تو گھر جیسا محسوس ہوتا ہے، کوٹلی کے انتخابی نمائندے میرے خاندان کا حصہ ہیں اور ہم ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ٹروتھ کمیشن بنایا جائے اور اس کی رپورٹ آنے تک احتجاج ختم کر دیا جائے۔

آزاد جموں و کشمیر کی انتخابی مہم کے سلسلے میں کوٹلی کے سکندر حیات اسٹیڈیم میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی سب سے مقبول جماعت ہے۔ ٹکٹ کے اتنے خواہشمند تھے کہ ہم پریشان ہو گئے، اس لیے پارٹی کو ہدایت کی کہ صرف وفادار ساتھیوں کو ٹکٹ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ آزاد کشمیر کی تاریخ کے سب سے اہم انتخابات ہیں۔ سیاست دانوں کا کام عوام کی خدمت کرنا ہے، ہم نے اپنا کام کر دیا، اب جتوانا عوام کا کام ہے۔ عوامی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے اور گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں اس بار بہتر نتائج کی توقع ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنائیں گے اور اکثریت حاصل کرنے کے لیے کوٹلی کی ہر نشست درکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مطلوب انقلابی کے بیٹے کو اسمبلی میں دیکھنا چاہتے ہیں اور موقع ملا تو ہر فورم پر کشمیر کی آواز بنیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ آزاد کشمیر کو حقِ حاکمیت، حقِ ملکیت اور حقِ روزگار دلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 27 جولائی کو ہر جگہ تیر کے نشان کو کامیاب بنائیں تاکہ پورے کشمیر میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے واحد وزیر خارجہ ہیں جنہوں نے بھارت میں بھی کشمیر کی آزادی کی بات کی، جبکہ کشمیر کے نوجوان تبدیلی اور اصلاحات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بھی مسئلہ کشمیر کو مؤثر انداز میں اٹھایا جائے گا۔ فیصلہ سازی کے اداروں میں آزاد کشمیر کی نمائندگی ضروری ہے، او آئی سی میں کشمیر کو مبصر کا درجہ ملنا چاہیے اور این ایف سی میں بھی آزاد کشمیر کا نمائندہ ہونا چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ قومی اسمبلی سمیت ہر فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ ان کی خواہش ہے کہ جس طرح لاڑکانہ کا ایم این اے ان کے ساتھ ہوتا ہے، اسی طرح کوٹلی کا ایم این اے بھی ان کے ساتھ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے عوام کو حقِ ملکیت دلائے گی اور فیصلہ سازی کے اہم اداروں میں کشمیریوں کی آواز پہنچائے گی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے پہاڑ اور دریا کشمیریوں کے ہیں اور پیپلز پارٹی ان کے وسائل کا دفاع کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ہی واحد جماعت ہے جو روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ موجودہ حالات ہر کشمیری کے لیے باعث تشویش ہیں اور وہ شہدائے کشمیر کے خاندانوں کے دکھ کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بارہ نشستوں سے زیادہ انسانی جانوں کی اہمیت ہے۔ ایکشن کمیٹی کے خط کے جواب میں انہوں نے مسئلے کے حل کے لیے ٹروتھ کمیشن بنانے اور تحقیقات کرانے کی تجویز دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیشن کی رپورٹ آنے تک احتجاج ختم اور کارروائیاں روک دی جائیں، کیونکہ کشمیر کے حالات بہتر بنانے کا یہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پورے کشمیر کو بند رکھنا کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ عام کشمیری کو سزا دینے کے مترادف ہے۔ لوگوں کو پرانے قوانین کی طرح اجتماعی سزا نہیں دی جا سکتی۔ ہم مل کر آزاد کشمیر کے تمام مسائل پرامن طریقے سے حل کریں گے۔ اب فیصلہ عوام نے کرنا ہے کہ وہ کس کی حکومت دیکھنا چاہتے ہیں۔ کشمیر کے پہاڑوں میں شیر کا ایسا شکار ہوگا کہ تاریخ اسے یاد رکھے گی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close