پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کوٹلی کے سکندر حیات اسٹیڈیم میں بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 27 جولائی کو آزاد کشمیر کے عوام تیر پر مہر لگا کر پاکستان پیپلز پارٹی کو کامیاب بنائیں اور آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم کریں۔انہوں نے کہا کہ کوٹلی سے ان کا تعلق محض سیاسی نہیں بلکہ خاندانی ہے اور یہاں سے پیپلز پارٹی کے امیدوار ان کے خاندان کے افراد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے صدر پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یٰسین کی وفاداری اور خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ مشکل ترین حالات میں بھی بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ڈٹے رہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اس مرتبہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی سب سے مقبول جماعت تھی، جس کے باعث ہر حلقے میں ٹکٹ کے متعدد امیدوار تھے، تاہم پارٹی نے وفادار کارکنوں کو ترجیح دی۔ انہوں نے مطلوب انقلابی کے صاحبزادے سمیت تمام پارٹی امیدواروں کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں بھی عوام نے مشکل حالات کے باوجود پیپلز پارٹی پر اعتماد کیا تھا اور اس بار پہلے سے بڑی کامیابی ملے گی۔
انہوں نے مخالفین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو ایف آئی آرز اور مقدمات کے ذریعے ڈرایا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وہ جماعت ہے جس کے قائدین نے تختہ دار قبول کیا مگر سر نہیں جھکایا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے حقوق، وسائل اور روزگار کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح گلگت بلتستان کے عوام سے حقوق اور وسائل کے تحفظ کا وعدہ کیا، اسی طرح کشمیری عوام کے حقوق، زمین، وسائل اور ملکیت کا بھی ہر سطح پر دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کرتی رہے گی اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کو قومی سطح کے اہم اداروں، بالخصوص کونسل آف کامن انٹرسٹس (سی سی آئی) اور نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) میں نمائندگی ملنی چاہیے تاکہ کشمیری عوام اپنے وسائل اور حقوق سے متعلق فیصلوں میں براہ راست شریک ہو سکیں۔ بلاول بھٹو نے نوجوانوں کے لیے روزگار کو اپنی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تاریخ روزگار فراہم کرنے کی تاریخ ہے اور اقتدار میں آکر کشمیری نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کی حالیہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جانوں کا نقصان کسی بھی سیاسی مسئلے سے زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے حالیہ واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ٹروتھ کمیشن قائم کرنے کی تجویز کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی قیادت اور وفاقی حکومت دونوں تحقیقات مکمل ہونے تک تحمل کا مظاہرہ کریں۔ بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی پابندیاں فوری ختم کی جائیں کیونکہ چند افراد کی کارروائی کی سزا پورے کشمیر کو نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کشمیریوں سے متعلق متنازع بیان دینے والے وفاقی وزیر پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات کشمیری عوام کی توہین ہیں اور حکومت کو اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ 27 جولائی کا انتخاب آزاد کشمیر کے مستقبل، نوجوانوں کے روزگار، کشمیری عوام کے حقوق، وسائل اور بااختیار نمائندگی کا فیصلہ ہوگا، اس لیے عوام پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ جیئے بھٹو
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






