مظفرآباد: وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس میں شرکت کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بطور اسٹیک ہولڈر باقاعدہ دعوت دی گئی تھی، تاہم وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئی۔
وزیراعظم ہاؤس میں کامیاب آل پارٹیز کانفرنس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خود ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن کے گھر دعوت دینے گئے تھے تاکہ انہیں مشاورتی عمل کا حصہ بنایا جا سکے۔
فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے مطابق متعدد معاملات حل کیے گئے، تاہم حکومت نے بعض امور کے حل کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگی تھی لیکن ایکشن کمیٹی نے پانچ سے سات دن کا وقت دینے سے بھی انکار کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر مہاجرین نشستوں کا مسئلہ بھی ختم ہو جائے تب بھی ایکشن کمیٹی ریاست کو بند کرنے کی پالیسی پر قائم رہنا چاہتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم آزادکشمیر نے واضح کیا کہ حکومت نے ایکشن کمیٹی کو طاقت کے ذریعے روکنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت پر یقین رکھتی ہے اور تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






