ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان توانائی تنصیبات پر فوری جنگ بندی کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین نے توانائی کی تنصیبات پر حملے فوری طور پر روکنے کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے، تاہم یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے روس کی رضامندی کو ضروری قرار دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے شعبے میں جنگ بندی ہوگئی ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ انہوں نے دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ معاہدے کی خلاف ورزی سے گریز کریں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، ٹرمپ کا یہ اعلان یوکرینی صدر زیلنسکی کی جانب سے روسی آئل ریفائنریز پر حملے یک طرفہ طور پر روکنے کے لیے امریکی دباؤ مسترد کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا۔

ایک امریکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے زیلنسکی نے کہا کہ انہیں اس معاہدے کے بارے میں ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے علم ہوا۔ یوکرین کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، یوکرین توانائی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے پہلے ہی تیار تھا، تاہم اس کے لیے روس کی رضامندی ضروری ہے۔

بی بی سی کے مطابق، زیلنسکی نے ٹرمپ کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ روس بھی اس معاہدے پر اتفاق کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر روس جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کرتا ہے تو یوکرین اس کا خیرمقدم کرے گا۔

ٹرمپ گزشتہ ماہ بھی اس نوعیت کے معاہدے کا اعلان کرچکے ہیں، تاہم اس وقت روس اور یوکرین دونوں کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔

اس سے قبل زیلنسکی نے واضح کیا تھا کہ یوکرین روسی آئل ریفائنریز پر حملے اسی صورت میں روکنے کے لیے تیار ہے جب روس بھی یوکرین کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا بند کرے۔ ان کے مطابق، اس طرح کے معاہدے پر مؤثر عمل درآمد کے لیے قابل اعتماد ضمانتیں ضروری ہیں۔

یوکرینی صدر نے مزید کہا کہ یورپ میں جاری جنگ کی بنیادی وجہ روس ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے فوری طور پر روکے جاسکتے ہیں، تاہم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔

توانائی تنصیبات پر حملوں کی روک تھام سے متعلق اس پیش رفت کو روس اور یوکرین جنگ میں کشیدگی کم کرنے کی ایک ممکنہ کوشش قرار دیا جارہا ہے، تاہم معاہدے پر عمل درآمد کا انحصار دونوں ممالک کی رضامندی اور عملی اقدامات پر ہوگا۔