ایران جنگ میں کتنے امریکی فوجی ہلاک ہوچکے؟ بڑا انکشاف

واشنگٹن: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران جنگ میں کم از کم 22 امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی اخبار نے دعویٰ کیا کہ ایران جنگ میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

دوسری جانب امریکا کے سابق سی آئی اے ڈائریکٹر ریٹائرڈ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے اعتراف کیا ہے کہ مشرقی خلیجی ریاستوں میں فعال امریکی فوجی اڈوں کو برقرار رکھنا اب پہلے کی طرح قابلِ عمل نہیں رہا۔

گلوبل گمبٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ڈیوڈ پیٹریاس نے واشنگٹن کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس ٹیکنالوجی موجود ہے، لیکن جنگیں جیتنے کی کوئی حکمتِ عملی نہیں ہے۔ ان کے مطابق امریکی فوج کو تکنیکی برتری حاصل ہے، تاہم پینٹاگون کی ناقص حکمتِ عملی نے اس برتری سے مؤثر فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ خلیج کی مشرقی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں کو برقرار رکھنا شاید اب اتنا عملی نہ رہا ہو جتنا پہلے ہوا کرتا تھا، جس کی وجہ جنگ کے بدلتے ہوئے طریقۂ کار میں مضمر ہے۔ ان کے مطابق سستے ڈرون انتہائی مہنگے فوجی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

افغانستان میں امریکی افواج کے سابق کمانڈر پیٹریاس نے 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کی بھی مذمت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا، ”میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں اس وقت افغانستان چھوڑنا ضروری تھا، اور نہ ہی میرا خیال ہے کہ ہمیں ایسا کرنا چاہیے تھا۔“

خلیجی ممالک میں امریکی موجودگی سے متعلق انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود فوجی اڈے اور اہم انفرااسٹرکچر اب ایک دوسرے کے خلاف دباؤ اور اثر و رسوخ کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میزائل انٹرسیپٹرز کا نصف استعمال کرچکا ہے، اس لیے مستقبل میں مہنگے دفاعی نظاموں کے بجائے کم لاگت ڈرونز اور جدید جنگی حکمتِ عملی کی طرف توجہ دینا ہوگی۔