اقوام متحدہ نے امریکا کو ایران میں جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے دیا

اقوام متحدہ کے ایران سے متعلق آزاد بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ مشن نے کہا ہے کہ ایران میں ایک اسکول اور اسپورٹس کمپلیکس پر امریکی حملوں کے جنگی جرائم کے زمرے میں آنے کی معقول بنیادیں موجود ہیں۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کے مشن کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری کو جنوبی ایران کے شہر مِناب میں شجرہ طیبہ پرائمری اسکول پر ہونے والا امریکی حملہ شہری تنصیبات کے خلاف ایک غیر امتیازی حملہ تھا، جس کے نتیجے میں شہریوں کی اموات ہوئیں اور شہری انفرااسٹرکچر تباہ ہوا۔ مشن کے مطابق یہ حملہ بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی اور جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مِناب کے اسکول پر حملے میں 150 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں تقریباً 120 بچے بھی شامل تھے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق اسکول ایک واضح شہری عمارت تھی اور اسے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی فورسز نے ہدف کے بارے میں ایسی انٹیلی جنس پر انحصار کیا جو درست یا تازہ نہیں تھی اور حملے سے قبل عمارت کے فوجی ہدف ہونے کی مناسب تصدیق نہیں کی گئی۔

اقوام متحدہ کے مشن نے شواہد کی بنیاد پر کہا کہ اسکول کو غلطی سے میزائل لگنے کے بجائے اسے ہی حملے کا مطلوبہ ہدف بنایا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق حملے میں ٹوماہاک میزائل استعمال کیے گئے۔

رپورٹ میں ایران کے شہر لامرد میں اسپورٹس کمپلیکس اور قریبی رہائشی علاقے پر ہونے والے دوسرے حملے کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق اس حملے میں 22 شہری شہید ہوئے، جبکہ قریبی رہائشی عمارتوں اور ایک اسکول کو بھی نقصان پہنچا۔ مشن نے قرار دیا کہ حملے کے اثرات کو آبادی والے علاقے میں کسی مخصوص فوجی ہدف تک محدود نہیں کیا جاسکتا تھا، اس لیے یہ حملہ بھی غیر امتیازی حملے کے زمرے میں آتا ہے۔

تاہم امریکی حکام نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے نتائج کو مسترد کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ پہلے ہی لامرد میں اس روز کسی امریکی حملے کی تردید کرچکی ہے، جبکہ امریکی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ فوجی کارروائیاں جنگی قوانین کے مطابق کی جاتی ہیں۔ امریکی حکام کی جانب سے مِناب اسکول حملے کی تحقیقات بھی کی گئی ہیں، تاہم پینٹاگون نے اس تحقیقات کے مکمل نتائج عوام کے سامنے پیش نہیں کیے۔

اقوام متحدہ کی اسی رپورٹ میں ایرانی حکام پر بھی ملک میں ہونے والے احتجاج کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مشن کے مطابق احتجاج کے خلاف کارروائیوں میں غیر قانونی ہلاکتیں، تشدد، من مانی گرفتاریاں اور جبری گمشدگیاں شامل تھیں، جنہیں بعض صورتوں میں انسانیت کے خلاف جرائم قرار دینے کی معقول بنیادیں موجود ہیں۔

رپورٹ کے نتائج اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کیے جائیں گے، جبکہ فیکٹ فائنڈنگ مشن نے امریکا اور ایران دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ روکیں اور متاثرین کے لیے مناسب اقدامات کریں۔