امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سی این این سمیت تین بڑے میڈیا اداروں کے نمائندوں کے وائٹ ہاؤس میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔
ٹرمپ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں ان اداروں پر ’’جعلی خبریں‘‘ نشر کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا اداروں کو امریکی صدر، ٹرمپ انتظامیہ یا امریکا سے متعلق ’’افسانے اور جھوٹ‘‘ مسلسل رپورٹ نہیں کرنے چاہئیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ دیگر ’’جعلی خبریں‘‘ نشر کرنے والے میڈیا اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
سی این این، ایم ایس ناؤ، پولیٹیکو اور نیشنل پریس کلب نے فوری طور پر ٹرمپ کے اعلان پر تبصرہ نہیں کیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے میڈیا اداروں پر پابندی کا اقدام امریکی آئین کی پہلی ترمیم سے متعلق سوالات بھی اٹھا سکتا ہے، جس میں آزادی اظہار اور آزاد صحافت کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی ان نشریاتی اداروں اور پروگراموں پر تنقید کرتے رہے ہیں جن کی خبروں یا پروگراموں میں ان پر تنقید کی گئی یا ان کا مذاق اڑایا گیا۔ وہ کئی مواقع پر وفاقی کمیونیکیشن کمیشن سے ایسے ٹی وی اسٹیشنز کے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اور میڈیا اداروں کے درمیان قانونی تنازعات بھی جاری رہے ہیں۔ جولائی کے اختتام پر امریکی محکمہ انصاف نے نیویارک ٹائمز کے ان صحافیوں کو جاری کیے گئے سمن واپس لے لیے تھے جنہوں نے ٹرمپ کے صدارتی طیارے کی سیکیورٹی سے متعلق خبریں شائع کی تھیں۔
ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کے خلاف بھی ہتک عزت کے مقدمات دائر کیے ہیں۔ ان میں ایک مقدمہ ان کے مالی اثاثوں کی ابتدا سے متعلق مضامین اور ایک کتاب جبکہ دوسرا وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی جیفری ایپسٹین سے متعلق ایک خبر پر دائر کیا گیا۔
گزشتہ سال ٹرمپ نے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو صدر کی نقل و حرکت کی کوریج کرنے والے معمول کے صحافتی گروپ سے بھی خارج کردیا تھا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب خبر رساں ادارے نے خلیج میکسیکو کے لیے ٹرمپ کی تجویز کردہ ’’گلف آف امریکا‘‘ کی اصطلاح اختیار نہیں کی تھی۔
اس کے علاوہ اے بی سی اور سی بی ایس کے خلاف ٹرمپ کے ہتک عزت کے مقدمات بھی سامنے آچکے ہیں۔ اے بی سی نے دسمبر 2024 میں ٹرمپ کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت 15 ملین ڈالر جبکہ سی بی ایس کی پیرنٹ کمپنی نے جولائی 2025 میں 16 ملین ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
ٹرمپ نے اے بی سی کے خلاف ایک سول جنسی زیادتی کے مقدمے سے متعلق بیانات پر بھی ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا، جبکہ سی بی ایس کے خلاف 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار کملا ہیرس کے انٹرویو سے متعلق مقدمہ بھی عدالت میں لے گئے تھے۔ ٹرمپ کا مؤقف تھا کہ انٹرویو کے دوران ایک ہی جواب کے مختلف حصے نشر کرکے ناظرین کو گمراہ کیا گیا۔






