لاہور ہائیکورٹ نے خلع اور خواتین کے مالی حقوق سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خاتون کا مقدمہ صرف علاقائی دائرہ اختیار کی بنیاد پر خارج نہیں کیا جاسکتا۔
عدالت نے شگفتہ بی بی کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور فیملی کورٹ کا خاتون کے حق میں سنایا گیا فیصلہ بحال کردیا۔
جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے شگفتہ بی بی کی درخواست پر 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ بیوی کا عام رہائشی مقام مستقل رہائش کا پابند نہیں ہوتا۔ خلع کے مقدمے میں بیوی جہاں رہ رہی ہو، وہاں کی فیملی کورٹ کو مقدمہ سننے کا اختیار حاصل ہے۔
فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ علاقائی دائرہ اختیار سے متعلق اعتراض کو موروثی دائرہ اختیار کی کمی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر کسی فریق کو کارروائی سے کوئی نقصان نہ ہو تو صرف علاقائی دائرہ اختیار کا اعتراض مقدمہ ختم کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اپیلٹ کورٹ نے خاتون کی رہائش سے متعلق ایک بیان کو بنیاد بنا کر دیگر شواہد کو نظرانداز کیا، جبکہ خاتون کے والد کا بیان بھی جہانیاں کی حدود میں اس کی رہائش کے مؤقف کی تائید کرتا تھا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ صرف ایک پتے کا ذکر خاتون کی عام رہائش ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ خلع کے دعوے کے ساتھ نان نفقہ اور جہیز کی اشیا یا ان کی قیمت سے متعلق دعوے بھی ایک ہی مقدمے میں شامل کیے جاسکتے ہیں۔
شگفتہ بی بی نے علاقائی دائرہ اختیار کی بنیاد پر اپنا مقدمہ خارج کیے جانے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے اپیلٹ کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کردیا۔
فیملی کورٹ نے خاتون کے حق میں عدت کے دوران 15 ہزار روپے اور جہیز کی اشیا کی متبادل قیمت کی مد میں ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔






