عاقب جاوید نے استعفے یا برطرفی کی خبروں پر خاموشی توڑ دی

قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین عاقب جاوید نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے یا پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے ہٹائے جانے کی خبروں کو مسترد کردیا ہے۔

انگریزی روزنامے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے عاقب جاوید نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ان کے استعفے سے متعلق اطلاعات درست نہیں۔

عاقب جاوید نے مختصر بیان میں کہا کہ انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا اور یہ خبر جعلی ہے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی کے بعد بورڈ کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیوں پر غور کررہے ہیں۔ ان ممکنہ تبدیلیوں میں عاقب جاوید کو سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کی بات بھی شامل تھی۔

عاقب جاوید گزشتہ دو برس کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ کے اہم معاملات میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ وہ سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین کے علاوہ ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔

حالیہ دورۂ انگلینڈ کے دوران ٹیسٹ سیریز کے وسط میں ٹیم میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد بھی عاقب جاوید کے کردار پر بحث ہوئی تھی۔ لارڈز میں دوسرے ٹیسٹ میں شکست کے بعد پی سی بی نے 7 کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا، جبکہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی تبدیل کردیا گیا تھا۔

بعد ازاں پاکستان کو ٹیسٹ سیریز میں 0-3 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد سلیکشن پینل کے رکن مصباح الحق نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

عاقب جاوید اس سے قبل انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران کیے گئے فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ٹیم مقابلہ کرنے میں ناکام رہی تھی اور اس صورتحال میں سوچ اور انداز میں تبدیلی کی ضرورت تھی۔

حالیہ میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وائٹ بال کوچ مائیک ہیسن کی جانب سے ٹیسٹ ٹیم کی ذمہ داری سنبھالنے پر آمادگی پی سی بی کے انتظامی ڈھانچے پر نظرثانی کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔