بجلی کے بھاری بلوں سے پریشان صارفین کے لئے اہم خبر

حکومت نے مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی صارفین پر 23 ارب روپے سے زائد کا اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی تیاری کر لی ہے، جس کے لیے نیپرا میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ اس درخواست پر 12 اگست کو سماعت ہوگی۔

درخواست کے مطابق کیپسٹی چارجز کی مد میں 49 ارب 74 کروڑ 60 لاکھ روپے جبکہ آپریشن اینڈ مینٹیننس اخراجات کے لیے 4 ارب 95 کروڑ 50 لاکھ روپے وصول کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ سسٹم استعمال کے چارجز کی مد میں 13 ارب 51 کروڑ 70 لاکھ روپے کی کمی کی درخواست بھی شامل ہے، جبکہ انکریمنٹل پیکیج کے تحت صارفین کو 21 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد واپس کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے باوجود مجموعی ایڈجسٹمنٹ کے نتیجے میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا امکان برقرار ہے۔

مختلف بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے بھی الگ الگ رقوم کی وصولی کی درخواستیں دائر کی ہیں۔ فیسکو نے 5 ارب 35 کروڑ 80 لاکھ روپے، گیپکو نے 4 ارب 99 کروڑ روپے، آئیسکو نے 4 ارب 87 کروڑ روپے، لیسکو نے 2 ارب 35 کروڑ روپے، میپکو نے 5 ارب روپے سے زائد، پیسکو نے 6 ارب 29 کروڑ 40 لاکھ روپے، سیپکو نے 2 ارب 96 کروڑ روپے اور ہیزکو نے ایک ارب 24 کروڑ روپے وصول کرنے کی استدعا کی ہے۔

دوسری جانب حیسکو نے 2 ارب روپے سے زائد جبکہ کیسکو نے 3 ارب 64 کروڑ روپے سے زائد کی کمی کی درخواست بھی دائر کی ہے۔

نیپرا 12 اگست کو تمام متعلقہ فریقین کا مؤقف سننے کے بعد سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرے گا، جس کے بعد بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کیا جائے گا۔