3 سعودی شہروں پر ڈرون اور میزائل داغ دیے گئے

یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے کہا ہے کہ حوثی ملیشیا سعودی عرب کے شہریوں، قومی اثاثوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حوثیوں نے بدھ 9 ستمبر کو خمیس مشیط، ابہا اور جازان سمیت سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے۔

ترجمان نے کہا کہ حوثیوں کے حملوں میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 73 شہری زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق حملوں کا تسلسل حوثی ملیشیا کے انتہاپسندانہ نظریے اور سعودی عرب میں شہریوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔

میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ اتحاد کی مشترکہ افواج سعودی عرب کی خودمختاری، شہریوں اور شہری تنصیبات کے تحفظ کے لیے ان حملوں کا ذمہ دارانہ انداز میں جواب دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائی بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور کی شق 51 اور بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کے مطابق کی جائے گی۔

دوسری جانب خمیس مشیط میں سعودی سول ڈیفنس نے 24 گھنٹوں کے دوران چوتھی مرتبہ ہنگامی الرٹ جاری کرنے کے بعد خطرہ ٹلنے کا اعلان کیا۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات پر عمل کریں، اجتماعات اور جائے وقوعہ کی فوٹوگرافی سے گریز کریں اور ہنگامی صورتحال میں 998 پر رابطہ کریں۔

یمن کے حوثیوں نے منگل کو سعودی عرب کے جنوبی علاقے میں ایک ایئربیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ سعودی کابینہ نے حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں شہری اور اقتصادی تنصیبات کے خلاف جارحیت قرار دیا اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ مملکت اپنی سرزمین اور وسائل کو نشانہ بنانے والا کوئی حملہ برداشت نہیں کرے گی اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

اقوام متحدہ، یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل سمیت متعدد ممالک اور عالمی اداروں نے حملوں کی مذمت کی ہے۔ پاکستان نے بھی حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ شہری اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملے معصوم جانوں اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔