امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ اگر نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کانگریس میں اپنا کنٹرول برقرار رکھتی ہے تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر دیے جائیں۔ ٹرمپ نے اس تجویز کو ’ٹرمپ ڈیویڈنڈ‘ کا نام دیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ رقم کس طریقے سے ادا کی جائے گی اور آیا اس منصوبے کے لیے قانونی منظوری حاصل کرنا ممکن ہوگا یا نہیں۔
تخمینے کے مطابق تقریباً 27 کروڑ بالغ امریکیوں کو 5 ہزار ڈالر فی کس دینے کی صورت میں مجموعی لاگت تقریباً 1.35 ٹریلین ڈالر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت میں ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ووٹرز اس طرح سمجھیں جیسے وہ خود بیلٹ پر موجود ہوں۔
تقریب سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ اس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔
ریپبلکن کنونشن میں ڈیموکریٹک پارٹی کو سوشلسٹ اور کمیونسٹ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا، جبکہ مہنگائی اور ایران کے ساتھ جنگ جیسے عوامی اہمیت کے مسائل پر نسبتاً کم گفتگو ہوئی۔
دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کے کم از کم ایک ایوان کا کنٹرول کھونے کا خدشہ ہے، جبکہ مختلف رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹک ووٹرز ریپبلکن ووٹرز کے مقابلے میں انتخابات کے لیے زیادہ پرجوش نظر آرہے ہیں۔






