ایرانی فوج نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
ایرانی حکام کے مطابق امریکا اور اسرائیل کو شکست دینے تک پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جبکہ ایرانی عوام کے مفادات اور جائز مطالبات کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی حالیہ جنگ میں ایران کو فوجی اور سیاسی کامیابی حاصل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
دوسری جانب ایران اور قطر کے درمیان ایرانی پائلٹوں کے معاملے پر اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ قطر نے ایرانی تفتیشی ٹیم کو ملک میں داخل ہونے اور لاپتا پائلٹوں کے بارے میں تحقیقات کرنے کی اجازت نہیں دی، جبکہ ایران کئی ماہ سے اپنے ماہرین کو قطر بھیجنے کی اجازت کا منتظر ہے۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ مارچ میں دو ایرانی ایس یو 24 طیارے گرائے جانے کے بعد تین پائلٹ زندہ گرفتار کیے گئے تھے اور انہیں قطر میں رکھا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے عالمی اداروں سے بھی معاملے میں مداخلت اور پائلٹوں کی صورتحال معلوم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم قطر نے ایرانی دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے کسی ایرانی پائلٹ کو گرفتار نہیں کیا۔ قطری حکام کے مطابق تلاش اور امدادی کارروائیوں کے دوران ایک پائلٹ کی باقیات ملیں اور انہیں ایران کے حوالے کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم تہران کی جانب سے تعاون نہیں کیا گیا۔
دونوں ممالک کے متضاد مؤقف کے باعث پائلٹوں کے بارے میں اصل صورتحال تاحال واضح نہیں ہوسکی، جبکہ ایران نے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کے لیے مزید کوششیں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔






