دھوکے سے تجارت کا امریکی الزام , چین کا ردِ عمل سامنے آ گیا

چین نے امریکا کی جانب سے چینی مصنوعات پر عائد ٹیرف سے بچنے کے لیے تیسرے ممالک کے ذریعے تجارت کرنے کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

چینی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی کمپنیوں کی جانب سے پیداوار اور سپلائی چین کو مختلف ممالک تک پھیلانا معمول کا تجارتی عمل ہے، اسے ٹیرف سے بچنے کی کوشش قرار دینا درست نہیں۔

چینی ترجمان نے کہا کہ بیجنگ ٹیرف کو دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرنے والے یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سپلائی چین میں تبدیلیاں کمپنیوں کی پیداوار اور ذرائع کو متنوع بنانے کا نتیجہ ہیں اور انہیں بلاجواز تجارتی خلاف ورزی سے جوڑنا مناسب نہیں۔

چینی حکام نے خبردار کیا کہ چین اپنے جائز مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ تجارتی جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا اور یکطرفہ اقدامات کے ذریعے تیسرے فریق کے مفادات کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

امریکا نے حالیہ رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ چینی مصنوعات کو بعض تیسرے ممالک کے ذریعے امریکا پہنچا کر زیادہ ٹیرف سے بچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ واشنگٹن نے 40 سے زائد ممالک اور خطوں کو ایسی سرگرمیوں کے ممکنہ خطرے کے حوالے سے نشان زد کیا ہے۔

چین کا مؤقف ہے کہ امریکی ٹیرف نے عالمی سپلائی چین کو صرف مختلف راستوں پر منتقل کیا ہے اور چینی مصنوعات پر انحصار مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔ اس معاملے پر امریکا اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔