قطر نے ایرانی پائلٹس کو حراست میں لینے کے دعوؤں کی تردید کر دی ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے مطابق قطری فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ایران سے رابطہ کیا گیا تھا۔ جواب نہ ملنے پر دفاعی اقدامات کیے گئے۔ قطری ریسکیو ٹیموں کو ایک ایرانی پائلٹ کی باقیات ملیں، جن کی حوالگی کے لیے ایران سے رابطہ کیا گیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ ایرانی پائلٹس کے معاملے پر سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
اس سے قبل ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ 2 مارچ کو قطر میں امریکی فوجی اڈے پر حملے کے بعد لاپتا ہونے والے ایرانی فضائیہ کے 3 پائلٹوں کو قطری افواج نے گرفتار کر لیا ہے اور وہ قطر کی تحویل میں ہیں۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق فوج کے اعلیٰ عہدیدار نے انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس سے ایرانی پائلٹوں کی رہائی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی لاپتا افراد کی تلاش کمیٹی کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد باقرزادہ نے آئی سی آر سی کی صدر مرجانا اسپولیارک ایگر کو خط لکھ کر تشویش ظاہر کی۔
ان کے مطابق 2 مارچ 2026 کو ایرانی فضائیہ کے دو ایس یو 24 جنگی بمبار طیارے ایران پر حملوں کے جواب میں قطر میں ایک امریکی فوجی اڈے کی جانب بھیجے گئے تھے۔ دونوں طیاروں نے مشن مکمل کیا لیکن واپسی پر دشمن کے فضائی دفاعی نظام نے انہیں نشانہ بنایا، جس کے بعد عملے کو ایجیکٹ کرنا پڑا۔






