وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ کے استعفے پر ایران اور وائٹ ہاؤس کے درمیان بیان بازی تیز ہوگئی ہے۔
ایران کے جنوبی افریقا میں واقع سفارتخانے نے سوشل میڈیا پر کیرولائن لیوٹ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مایوس ہوکر استعفا دیا۔ سفارتخانے نے لکھا کہ جب لیڈر دھوکہ دے اور خود بچ نکلے جبکہ ملازم کو خطرے میں ڈال دے تو پھر کسی رفاقت کی امید نہیں رہتی۔ مزید کہا گیا کہ “آپ قاتل سے زیادہ توقع بھی نہیں کر سکتے” اور کیرولائن لیوٹ سے کہا کہ “دھوکا بہت برا ہوتا ہے، آپ نے استعفا دے کر اچھا کیا”۔
وائٹ ہاؤس نے ایرانی سفارتخانے کے اس دعوے کو فوری مسترد کر دیا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق کیرولائن لیوٹ صدر ٹرمپ کے ترکیہ کے دورے کے دوران ان کے ساتھ موجود ہی نہیں تھیں۔
وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے طیارے ایئر فورس ون پر ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کا خدشہ اسرائیل نے ظاہر کیا تھا۔ اس کے بعد صدر ٹرمپ ایئر فورس ون سے نکل کر ایک کیٹرنگ ٹرک میں منتقل ہوئے اور پھر انہیں ایک چھوٹے بوئنگ طیارے کے ذریعے برطانیہ روانہ کیا گیا۔
اس طرح کیرولائن لیوٹ کے استعفے کے معاملے پر ایران کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور وائٹ ہاؤس کی تردید کے بعد دونوں طرف سے متضاد موقف سامنے آ گئے ہیں۔






