پی ٹی آئی میں اختلافات سسے متعلق شیر افضل مروت کا اہم انکشاف

 

رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے سماء ٹی وی کے پروگرام ’’میرے سوال‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اور 27 ستمبر کے مجوزہ مارچ پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ مشال یوسفزئی کے حوالے سے غصے کی وجہ ان کا تعلق بشریٰ بی بی سے جوڑا جانا ہے۔ ان کے مطابق کوشش کی گئی کہ مشال یوسفزئی کو سینیٹ کا ٹکٹ نہ دیا جائے، تاہم بانی پی ٹی آئی نے واضح کہا تھا کہ انہیں ٹکٹ دیا جائے۔

شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ سلمان اکرم راجہ اور جنید اکبر نے بانی کے سامنے کہا تھا کہ مشال یوسفزئی تنقید کرتی ہیں۔ بعد ازاں مشال یوسفزئی نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اور بتایا کہ سلمان اکرم راجہ نے ان سے معافی مانگی۔ انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کے درمیان اختلافات آج کے نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے اندر 3 گروپ سرگرم ہیں۔ ایک گروپ سہیل آفریدی کا، دوسرا 40 سے 45 اراکینِ اسمبلی پر مشتمل اور تیسرا گروپ علی امین گنڈاپور کا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اختلافات ختم نہ کیے گئے تو مارچ کے معاملے پر سہیل آفریدی تنہا رہ جائیں گے۔ ان کے مطابق اختلافات اب دشمنیوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں اور اتفاق کے بغیر مارچ کا اعلان نہیں ہونا چاہیے۔

شیر افضل مروت نے کہا کہ شہباز گل کو بانی پی ٹی آئی سے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے متعارف کرایا تھا۔ ان کے خیال میں فیض حمید نے بانی سے جیل میں ملاقات بھی کی تھی، جس پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو گرفتار کیا گیا تھا۔

انہوں نے مالی معاملات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ علی امین گنڈاپور نے پارٹی کو 72 کروڑ روپے دیے تھے جو خرچ کر دیے گئے۔ نومبر کے احتجاج کے متاثرین اور ضمانتوں کے لیے ملنے والی رقم کا حساب سیکریٹری جنرل کو دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام وکلا علیمہ خان گروپ سے وابستہ ہیں۔ بیرسٹر گوہر بانی کے وکیل نہیں، جبکہ سلمان اکرم راجہ اور سلمان صفدر بانی کے وکلاء ہیں۔ سلمان صفدر نے 3 سال میں بھاری رقوم وصول کی ہیں۔

شیر افضل مروت نے واضح کیا کہ 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کا کوئی مارچ نہیں ہو گا کیونکہ اس حوالے سے کوئی تیاری نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں نہ نظم و ضبط ہے اور نہ اتفاق۔ علیمہ خان نے بھی 27 ستمبر کے مارچ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے اندر سب کو غدار کہا جا رہا ہے۔ ان کے سوال پر کہ ’غداروں کے ساتھ کون سی قوم نکلے گی؟‘ انہوں نے کہا کہ 4 اگست کو سہیل آفریدی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقات بھی ہوئی تھی۔