امریکا اور ایران کے درمیان تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے بعد مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل میں طویل رکاوٹ کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ گئیں۔
رپورٹ کے مطابق پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت 52 سینٹ یعنی 0.54 فیصد اضافے سے 96.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ WTI خام تیل 66 سینٹ بڑھ کر 92.14 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا۔
گزشتہ ہفتے بھی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 7.8 فیصد اور WTI کی قیمت تقریباً 10 فیصد بڑھی۔ یہ اضافہ امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں کمی کے سبب ہوا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فورسز نے ہفتے کے روز تین ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں سے ایک کو ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارک کے قریب نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور IRGC کی بحریہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں غیر مجاز راستوں سے گزرنے والے تین تیل بردار جہازوں اور دیگر علاقوں میں موجود تین امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سمندری انٹیلی جنس فرم کے مطابق ہفتے کے حملے بحری تنازع میں بڑی شدت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ فرم نے خبردار کیا کہ تجارتی تیل بردار جہازوں کو اب فریقین اقتصادی دباؤ کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جس سے تجارتی جہاز رانی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 روز کے دوران اوسطاً روزانہ صرف 10 مال بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو مئی کے بعد سب سے کم سطح ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے باہر ایک محدود زون قائم کرنے کا اعلان بھی متوقع ہے، جس سے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ادھر OPEC+ نے اکتوبر کے لیے تیل کی پیداوار سے متعلق موجودہ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مستقبل میں پیداوار میں کسی تبدیلی سے قبل نئے پیداواری کوٹے پر اتفاق ضروری ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی اور محدود فوجی کارروائیاں مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی کی بحالی کو مزید مؤخر کر سکتی ہیں۔ اندازہ ہے کہ خطے سے تیل کی برآمدات 2026 کے اختتام تک محدود رہیں گی جبکہ جنگ سے پہلے کی سطح پر مکمل بحالی 2027 کی پہلی سہ ماہی کے اختتام یا دوسری سہ ماہی کے آغاز سے پہلے متوقع نہیں۔
یعنی اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی تیل کی سپلائی، قیمتوں اور توانائی کی مارکیٹ پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔






