امریکا اور ایران کے درمیان تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے والی شدید عسکری کشیدگی، باہمی حملوں، آبنائے ہرمز میں تناؤ، عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے اور خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے بعد واشنگٹن نے اچانک ایران پر اپنے حملے روکنے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد یہ سوال سامنے آیا کہ آیا یہ حکمت عملی میں تبدیلی ہے یا سفارتی عمل کو موقع دینے کے لیے ایک عارضی وقفہ۔
ماہرین کے مطابق امریکی حملے روکنے کا فیصلہ کسی ایک وجہ کا نتیجہ نہیں بلکہ سیاسی، عسکری، سفارتی اور معاشی عوامل کے امتزاج کا نتیجہ تھا۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں، عالمی معیشت پر دباؤ، خلیجی اتحادیوں کے تحفظات، ایران کی جوابی کارروائیاں، سفارتی رابطے اور دفاعی وسائل سے متعلق خدشات نے دونوں ممالک کو وقتی طور پر کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملے معطل کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد تہران نے بھی خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر اپنی جوابی کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا۔
اس سے قبل ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور مفادات کو نشانہ بنایا تھا، جبکہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو بھی متاثر کیا۔ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور بحری نقل و حمل پر بھی دباؤ بڑھ گیا۔
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان میزائل حملے فی الحال رک گئے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز، باب المندب، لبنان اور ایران کے جوہری پروگرام جیسے بنیادی تنازعات برقرار ہیں، جس کے باعث ماہرین موجودہ صورت حال کو مستقل امن کے بجائے ایک نازک وقفہ قرار دے رہے ہیں۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا کہ ایران کی حکمت عملی دفاع اور جوابی کارروائی پر مبنی ہے، اس لیے امریکی حملے رکنے کے بعد ایران نے بھی اپنی کارروائیاں معطل کیں۔ ان کے مطابق ایران جنگ کو وسعت نہیں دینا چاہتا، تاہم کسی نئے حملے کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز بدستور دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم تنازع ہے، کیونکہ یہ دنیا میں خام تیل کی ترسیل کا اہم بحری راستہ ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران ایران نے اس گزرگاہ پر نگرانی سخت کر دی تھی، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہوئی۔
ذرائع کے مطابق جون میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی سمجھوتے کے تحت طے پایا تھا کہ امن مذاکرات کے دوران ساٹھ روز تک آبنائے ہرمز بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی رہے گی، تاہم جہازوں کے راستے اور نگرانی کے اختیار پر اختلافات برقرار رہے، جو بعد میں کشیدگی بڑھنے کی ایک وجہ بنے۔
بحران صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہا بلکہ باب المندب میں بھی حالات کشیدہ رہے، جہاں یمن کے حوثی باغیوں نے بحری جہازوں پر حملے تیز کیے اور بعض خلیجی ممالک کے خلاف بحری ناکا بندی کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
لبنان بھی اس بحران کا اہم محاذ بنا رہا، جہاں اسرائیل جنوبی لبنان کے بعض علاقوں میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا ہدف حزب اللہ کے ٹھکانے ہیں، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان کی خودمختاری کا احترام کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ حملے روکنے کا مقصد سفارتی کوششوں کے لیے ماحول سازگار بنانا تھا، جبکہ مختلف ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں۔ تاہم کئی تجزیہ کاروں کے نزدیک سفارت کاری کے ساتھ ساتھ معاشی اور عسکری عوامل نے بھی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔
ماہر معاشیات نادر حبیبی کے مطابق کشیدگی کے دوران خام تیل کی قیمتیں ایک مرحلے پر سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جس سے عالمی معیشت اور امریکی اتحادی شدید دباؤ کا شکار ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلسل جنگ دونوں ممالک کے لیے مہنگی ثابت ہو رہی تھی، لیکن کوئی بھی فریق دوسرے کو اپنی شرائط پر جھکانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔
ادھر امریکی پابندیوں اور بحری دباؤ کے باعث ایران کی معیشت بھی متاثر ہوئی، مختلف علاقوں میں ایندھن کی قلت پیدا ہوئی اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
بین الاقوامی کرائسس گروپ کے ایران پروگرام کے سربراہ علی واعظ کے مطابق حالیہ لڑائی نے دونوں ممالک کو یہ احساس دلایا کہ عسکری کارروائیاں اخراجات تو بڑھا رہی ہیں، لیکن بنیادی سیاسی مسائل حل نہیں ہو رہے۔ ان کے مطابق اصل تنازع آبنائے ہرمز کے انتظام اور جہاز رانی کے قواعد پر اختلاف ہے، جس کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔
پاکستان، قطر، مصر اور عمان سمیت کئی علاقائی ممالک پس پردہ سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ مختلف ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کی نئی تجاویز پر بھی غور کیا گیا تاکہ مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع ہو سکے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی کہ مختلف ثالث ممالک دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ ایران ماضی کے تجربات کے باعث اس بار زیادہ محتاط رویہ اختیار کر رہا ہے۔
دریں اثنا امریکی ذرائع ابلاغ میں ایسی رپورٹس بھی سامنے آئیں جن میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فضائی دفاعی نظام کے لیے استعمال ہونے والے پیٹریاٹ میزائلوں اور دیگر دفاعی گولہ بارود کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اطلاعات کو مسترد کیا، تاہم بعض دفاعی ماہرین کا خیال ہے کہ دفاعی وسائل پر بڑھتا دباؤ بھی حملے روکنے کے فیصلے میں شامل عوامل میں سے ایک ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ جنگ بندی کو مستقل امن نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ آبنائے ہرمز، باب المندب، لبنان، اسرائیل اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی بنیادی تنازعات اب بھی برقرار ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو خطہ دوبارہ بڑے عسکری تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے، اسی لیے عالمی توجہ آئندہ ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہے۔






