اہم ملک کی وزیراعظم کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

یوکرین میں بڑی سیاسی تبدیلی، وزیراعظم کی برطرفی کے بعد پوری کابینہ مستعفی

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے وزیراعظم یولیا سویریڈینکو کو عہدے سے ہٹانے کا اعلان کر دیا، جس کے بعد آئینی تقاضوں کے مطابق پوری کابینہ نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا۔ صدر زیلنسکی نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قیادت میں بھی اہم تبدیلیاں کی جائیں گی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ وہ یولیا سویریڈینکو کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور انہیں ملک کے ایک اہم بین الاقوامی شراکت دار سے تعلقات کے حوالے سے نئی ذمہ داریاں سونپنے کی تجویز دی گئی ہے۔

صدر نے بتایا کہ پارلیمنٹ کے تعاون سے نئی حکومت تشکیل دی جائے گی، تاہم انہوں نے نئے وزیراعظم کے نام یا یولیا سویریڈینکو کی آئندہ ذمہ داریوں سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بھی اعلیٰ سطح پر تبدیلیوں کا اعلان کیا، تاہم اس کی وجوہات بیان نہیں کیں۔

یولیا سویریڈینکو، جو پیشے کے اعتبار سے ماہر معاشیات ہیں، جولائی 2025 میں وزیراعظم بنی تھیں۔ اس سے قبل وہ صدر زیلنسکی کے دفتر میں نائب سربراہ، جبکہ نائب وزیراعظم اور وزیر برائے اقتصادی ترقی و تجارت کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔

یوکرین کے آئین کے تحت وزیراعظم کے استعفے یا برطرفی کے بعد پوری کابینہ تحلیل ہو جاتی ہے، جبکہ اس کی منظوری پارلیمنٹ دیتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران یوکرین کی حکومت کو بڑے کرپشن اسکینڈلز کا سامنا رہا، جن میں سرکاری جوہری توانائی کمپنی اینرگوایٹم میں مبینہ طور پر 10 کروڑ ڈالر کی کک بیکس کا معاملہ بھی شامل ہے۔ اس کیس کے تناظر میں حکومتی حلقوں کی بعض اہم شخصیات کے نام بھی سامنے آئے، تاہم متعلقہ افراد نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

پارلیمانی ذرائع کے مطابق وزارت توانائی کے وزیر ڈینس شمیہال، وزیر دفاع میخائیلو فیڈوروف اور سرکاری توانائی کمپنی نفتوگاز کے سربراہ سرہی کوریٹسکی وزیراعظم کے عہدے کے ممکنہ امیدواروں میں شامل ہیں۔ اپوزیشن ارکان کا کہنا ہے کہ سرہی کوریٹسکی کے نئے وزیراعظم بننے کے امکانات زیادہ ہیں، جبکہ یولیا سویریڈینکو کو امریکا میں یوکرین کا سفیر مقرر کیے جانے کی قیاس آرائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close