امریکا نے ایران کو الٹی میٹم دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہفتے تک عوامی طور پر اعلان کرے کہ آبنائے ہرمز میں حملے بند کیے جا رہے ہیں اور یہ آبی گزرگاہ جہاز رانی کے لیے کھلی رہے گی۔
امریکا نے ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے روکنے اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے عوامی اعلان کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے تین امریکی عہدیداروں کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران سے کہا ہے کہ وہ ہفتے تک عوامی سطح پر یہ اعلان کرے کہ آبنائے ہرمز جہاز رانی کے لیے کھلا ہے اور وہ تجارتی جہازوں پر حملے بند کر دے گا۔
امریکی عہدیداروں کے مطابق واشنگٹن نے علاقائی ثالثوں کے ذریعے یہ پیغام براہِ راست تہران تک پہنچایا ہے۔ امریکا کا مؤقف ہے کہ تجارتی جہازوں پر حالیہ حملے اُس مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی ہیں، جس پر تین ہفتے قبل دونوں فریقوں نے دستخط کیے تھے، تاہم حالیہ کشیدگی نے اس نازک معاہدے کو ٹوٹنے کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے مذاکرات سے متعلق کسی نئی درخواست کی تردید کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران نے کوئی درخواست نہیں کی۔
ادھر امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی مالیاتی سہولت کار علی انصاری، متعدد شیڈو ایکسچینج ہاؤسز اور ان کے ذمہ داران کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق علی انصاری، مجتبیٰ خامنہ ای سے منسلک عالمی اثاثہ جاتی نیٹ ورک کی نگرانی کرتے ہیں اور سرکاری دولت کو بیرونِ ملک جائیدادوں اور تجارتی اثاثوں میں منتقل کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق یہ ایکسچینج ہاؤسز پابندیوں کا سامنا کرنے والے ایرانی بینکوں کے اربوں ڈالر منتقل کرتے ہیں، جبکہ ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات میں قائم دو کمپنیوں کو بھی نئی پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






