امریکا کا ایف 35 بی اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ، مگر کیسے ؟ جانئے تفصیل

کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں امریکا کا ایک ایف-35 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے، تاہم پائلٹ وقت پر طیارے سے نکلنے میں کامیاب رہا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی میرین کور کا بتانا ہے کہ یہ ایف-35 بی اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ جمعہ کے روز سان ڈیاگو میں واقع میرامار ایئر بیس کے قریب گر کر تباہ ہوا، اور پائلٹ نے تباہی سے قبل ہی پیراشوٹ کے ذریعے اپنی جان بچا لی۔ پائلٹ کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کی چوٹیں خطرناک نہیں بتائی جا رہیں۔ ایک نیوز ہیلی کاپٹر کی ویڈیو میں ایک کچے میدان میں پڑے ملبے سے سیاہ دھواں اٹھتے اور قریب متعدد فائر فائٹنگ و فوجی گاڑیاں اور اہلکار موجود دیکھے گئے۔

یہ حادثہ طیارے کے رن وے تک پہنچنے سے پہلے ہی پیش آیا اور فی الحال اس کی وجوہات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔ اس امریکی ایف-35 بی اسٹیلتھ لڑاکا طیارے کی مالیاتی قیمت تقریباً ایک سو نو ملین ڈالر ہے۔ ایک عینی شاہد شہری نے بتایا کہ دو طیارے ایک ساتھ آئے تھے جن میں سے ایک آسانی سے رن وے پر اتر گیا جبکہ دوسرا اچانک سست ہوا جیسے فضا میں معلق ہونے کی کوشش کر رہا ہو، پھر تقریباً سو فٹ کی بلندی پر پائلٹ نے خود کو باہر نکالا اور دو سو فٹ کی بلندی پر جا کر اس کا پیراشوٹ کھل گیا۔

اے پی کے مطابق میرامار ایئر بیس ماضی میں نیوی فائٹر پائلٹ ٹریننگ اسکول کا مرکز رہا ہے اور اسے مشہور فلم ٹاپ گن میں بھی دکھایا گیا تھا۔ اس وقت امریکی میرین کور، نیوی اور ایئر فورس کے پاس مجموعی طور پر چھ سو تیس سے زائد ایف-35 طیارے موجود ہیں۔ ایف-35 بی اسی طیارے کا ایک ماڈل ہے جس میں مختصر فاصلے سے ٹیک آف اور عمودی یعنی ورٹیکل لینڈنگ کی صلاحیت کے لیے خاص انجن لگا ہوا ہے۔ فلائٹ سیفٹی فاؤنڈیشن کے ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال امریکا میں فوجی طیاروں کو کم از کم سات حادثات پیش آ چکے ہیں، جبکہ ایف-35 کے ایسے پانچ مختلف حادثات میں پائلٹ خود کو بحفاظت باہر نکالنے میں کامیاب رہے ہیں۔