وفاقی وزارتِ خزانہ نے اپنی ماہانہ ‘اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک’ رپورٹ جاری کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کی لاگت میں اضافہ ہوگا، جبکہ ملک میں مہنگائی کی شرح مسلسل چوتھے ماہ بھی دو ہندسوں میں رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کی اہم معاشی نشان دہی درج ذیل ہے:
مہنگائی کی صورتِ حال: اپریل میں مہنگائی 10.9 فیصد، مئی میں 11.7 فیصد اور جون میں 11.1 فیصد رہی، جبکہ جولائی میں اس کے 9 سے 10 فیصد کے درمیان رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری: گزشتہ ایک سال کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں 33.9 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی اور یہ 2.47 ارب ڈالر سے گھٹ کر 1.63 ارب ڈالر پر آ گئی۔
تجارت و شرحِ سود: برآمدات میں 4.6 فیصد کمی کے بعد رقم 30.80 ارب ڈالر تک محدود ہو گئی ہے، جبکہ شرحِ سود 11 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
اس تمام معاشی دباؤ کے باوجود وزارتِ خزانہ نے امید ظاہر کی ہے کہ برآمدات، ترسیلاتِ زر، صنعتی پیداوار اور زرعی شعبے میں ممکنہ بہتری معیشت کو سنبھالا دے گی، اور حکومت معاشی اصلاحات و استحکام کے ذریعے ترقی کا سفر جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔






