امریکا، اسرائیل کی ایرانی توانائی مراکز پر حملے کی تیاری شروع ، ایران کا بھی رد عمل

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں توانائی کے اہداف پر شدید بمباری کی تیاری کر رہے ہیں۔ متعدد ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل توانائی کے بنیادی انفرااسٹرکچر پر اب تک کی سب سے سخت فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں اور ہفتے کے اختتام تک کسی بھی وقت یہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی اور امریکی معیشت پر پڑنے والے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات زیرِ غور ہے کہ حملے پیر کے روز مالیاتی منڈیاں کھلنے سے پہلے ختم کر دیے جائیں، تاہم اس کا حتمی وقت طے نہیں ہوا، جبکہ ان حملوں میں بجلی گھروں اور آئل ریفائنریز سمیت توانائی کی مختلف تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی حکام کو اس منصوبے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور وہ امریکا کے ساتھ مکمل رابطہ کاری کر رہے ہیں، تاہم امریکی صدر نے ابھی تک حملوں کا حتمی حکم جاری نہیں کیا۔ دوسری جانب ایک اسرائیلی عہدیدار نے ان خبروں کے برعکس سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ اسرائیل کو مکمل فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے کسی فیصلے کا علم نہیں ہے اور نہ ہی ان سے ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی میں شمولیت کی درخواست کی گئی ہے۔ اس کارروائی کے ردعمل کے طور پر ایران نے بھی آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سخت کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی قیمت امریکی ووٹرز چکائیں گے۔

کیمپ ڈیوڈ میں صدر ٹرمپ کے کابینہ اجلاس کے دوران اس منصوبے پر بحث ہوئی جہاں سیاسی امور سے وابستہ وائٹ ہاؤس کے بعض معاونین نے اس کی شدید مخالفت کی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پر اتنے سخت حملے کیے جائیں گے کہ وہ خود مزید برداشت نہ کرنے کا اعتراف کریں گے، کیونکہ امریکا صرف اور صرف فتح چاہتا ہے۔ اسی حوالے سے وال اسٹریٹ جنرل نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نئے حملوں کی ہدایات جاری کر دی ہیں جو ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں شروع ہو سکتے ہیں، جبکہ انہوں نے خبردار بھی کیا ہے کہ مذاکرات کی میز پر نہ آنے کی صورت میں ایران کو شدید فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس صورتحال پر اپنے ردِعمل میں ایران نے بھی امریکا اور اسرائیل کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی تیاری کا دعویٰ کیا ہے۔ ایک ایرانی فوجی عہدیدار کے مطابق امریکی یا اسرائیلی حملے کی صورت میں اسرائیل کی اہم تنصیبات اور خطے میں موجود امریکی توانائی مراکز پر فوری جوابی کارروائی کی جائے گی اور ایرانی مسلح افواج اس کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

علاوہ ازیں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے متنبہ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کی اس جنگ سے عالمی عدم استحکام بڑھ رہا ہے اور اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس تنازع نے توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے جس سے خوراک اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی سپلائی چینز پر شدید دباؤ آیا ہے، لہٰذا عالمی برادری کشیدگی کم کرنے اور قیامِ امن کے لیے فوری اقدامات کرے۔