افغان وزیر نے بھارت کے دورے کے دوران ایک متنازع بیان دیتے ہوئے افغانستان اور بھارت کا ڈی این اے ایک قرار دے دیا۔
نئی دہلی میں گفتگو کرتے ہوئے افغان عبوری حکومت کے وزیرِ زراعت مولوی عطا اللہ عمری نے کہا کہ انہیں بھارت آ کر ہرگز یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ کسی غیر ملک میں ہیں، بلکہ انہیں یوں لگا جیسے بھارت ان کا اپنا ہی ملک ہو۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان اور بھارت کا ڈی این اے ایک ہی ہے۔
سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق طالبان وزیر کے اس بیان سے پاکستان کے اس مؤقف کو تقویت ملی ہے کہ مودی حکومت کی پشت پناہی اور طالبان کی سرپرستی میں خطے میں دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیریوں اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش رہنے والی طالبان حکومت اب اسلامی روایات سے مکمل طور پر منحرف ہو چکی ہے، اور محض چند پیسوں کی خاطر بھارت سے اپنا ڈی این اے ملانا اسی فکری انحراف کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین نے مزید کہا کہ اگر کسی قسم کی مماثلت موجود ہے تو وہ بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور طالبان کے موجودہ اقدامات میں دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ ان کے مطابق مودی حکومت پہلے ہی اسرائیل کو اپنا ’فادر لینڈ‘ قرار دے چکی ہے۔
ان کے مطابق اس تناظر میں افغان وزیر کا یہ بیان افغانستان، بھارت اور اسرائیل کے درمیان مبینہ نظریاتی قربت کی عکاسی کرتا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






