ایران کا امریکا کو سخت انتباہ، تعاون کرنے والے مقامات کو ’جائز ہدف‘ قرار دے دیا
ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی میں تعاون کرنے والے ہر مقام کو ایرانی مسلح افواج کے لیے جائز ہدف تصور کیا جائے گا، جبکہ آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی خودمختاری اور سرزمین کے خلاف کسی بھی امریکی کارروائی میں معاونت کرنے والا ہر مقام ایرانی افواج کے نشانے پر ہوگا۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکا نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جس کے بعد ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایرانی فوج نے واضح کیا کہ امریکی حملوں کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا اور کسی بھی صورت امریکا کو آبنائے ہرمز میں مداخلت یا اس اہم بحری گزرگاہ کے انتظام میں کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بیان کے مطابق تجارتی بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کے لیے صرف وہی بحری راستہ محفوظ تصور کیا جائے گا جسے اسلامی جمہوریہ ایران نے مقرر کیا ہے۔
اس سے قبل اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) اور ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ جنوبی ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایران کی نیشنل سکیورٹی اور فارن پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا کہ ایرانی قوم کسی بھی دھمکی سے خوفزدہ نہیں اور ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 سے 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
عالمی مارکیٹ میں مربان کروڈ آئل 73.22 ڈالر، لندن برینٹ کروڈ 78.64 ڈالر اور امریکی خام تیل 74.85 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
معاشی ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خدشات نے عالمی منڈی میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، جس کے باعث تیل کی قیمتوں، امریکی ڈالر اور سرکاری بانڈز کی قدر میں اضافہ جبکہ یورپی شیئرز مارکیٹوں میں کمی دیکھی گئی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






