اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی بن گویر نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے اور وہ امریکا کے مطالبات کا پابند نہیں ہے۔
اسرائیلی اخبار دی ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق ایتامار بن گویر نے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کی قومی سلامتی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، اس لیے اسرائیل اس کا فریق نہیں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا اسرائیل پر کوئی اطلاق نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کا معاہدہ ہمارے لیے پابند نہیں ہے۔ اسرائیل امریکا کے تابع نہیں بلکہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے۔
اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی نے مزید کہا کہ اسرائیل کو لبنان میں اپنی افواج کے زیرِ قبضہ آنے والے کسی بھی علاقے سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے۔
اسرائیلی وزیر نے کہا کہ ہم اس معاہدے کے شراکت دار نہیں ہیں کیونکہ یہ ہماری سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔ ہمیں لبنان میں اپنے جنگجوؤں کے قبضے میں آنے والے کسی بھی علاقے سے واپس نہیں ہٹنا چاہیے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار 14 جون کو اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔
انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو عالمی بحری آمدورفت کے لیے ٹول فری کھولنے کا بھی اعلان کیا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ سب کو مبارک ہو۔ میں آبنائے ہرمز کو ٹول فری بنیادوں پر مکمل طور پر کھولنے کی اجازت دیتا ہوں اور ساتھ ہی امریکا کی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کی منظوری دیتا ہوں۔ دنیا کے جہاز اپنے انجن شروع کریں، تیل کو آزادانہ بہنے دیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر باضابطہ دستخط سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں کیے جائیں گے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






