ایران کیخلاف جنگ میں استعمال ہتھیاروں کا اسٹاک ختم ہو گیا ہے جس کے باعث امریکی دفاعی ادارہ پینٹاگون شدید پریشانی کا شکار ہو گیا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ نے امریکی فوجی طاقت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے اور جنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کا اسٹاک ختم ہونے پر امریکی دفاعی ادارہ پینٹاگون شدید پریشانی کا شکار ہو گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران اور اتحادیوں کے خلاف طویل فوجی آپریشنز نے امریکی دفاعی پیداوار کی قلعی کھول دی ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے گوداموں میں جنگوں میں استعمال ہونے والے گائیڈڈ میزائلوں، فضائی دفاعی ہتھیاروں اور گولہ بارود کی قلت ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پینٹاگون کی جانب سے دفاعی کمپنیوں کو ہتھیاروں کی پیداوار ہنگامی بنیادوں پر بڑھانے کیلیے فنڈز جاری کیے گئے ہیں، تاہم امریکی فوج کو مطلوبہ ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ذخائر کو دوبارہ مکمل کرنے کیلیے 3 سال درکار ہوں گے۔
ایران کی مضبوط دفاعی حکمت عملی اور طویل مزاحمت نے واشنگٹن کی جنگی منصوبہ بندی کو نقصان پہنچایا اور امریکی دفاعی صنعت سست پیداواری صلاحیت اور خام مال کی کمی کے باعث فوری سپلائی میں ناکام رہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہتھیاروں کی سپلائی میں 3 سال کی تاخیر نے عالمی سطح پر امریکی فوجی بالادستی اور ساکھ پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں





