شمالی کوریا نے اپنے آئین میں ایک اہم اور حساس نوعیت کی ترمیم منظور کر لی ہے، جس کے تحت غیر ملکی حملے کی صورت میں ریاستی قیادت کو نقصان پہنچنے پر فوج کو فوری جوابی ایٹمی حملہ کرنے کی اجازت یا ذمہ داری ہو گی۔
برطانوی اخبار کے مطابق جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ ترمیم پیانگ یانگ میں منعقدہ سپریم پیپلز اسمبلی کے اجلاس میں منظور کی گئی۔ ترمیم کے تحت اگر ریاست کے جوہری نظام کی کمان اور کنٹرول کو خطرہ لاحق ہو تو خودکار طور پر جوہری جواب دیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ جوہری افواج کی کمان اب بھی کِم جونگ اُن کے پاس ہے، تاہم ان کے غیر فعال ہونے کی صورت میں جوابی کارروائی کے واضح قواعد وضع کر دیے گئے ہیں۔
جنوبی کوریا کے ذرائع کے مطابق یہ اقدام عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ خطے کی صورتحال کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پیانگ یانگ اپنی دفاعی پالیسی کو مزید سخت اور خودکار نظام کی طرف لے جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی قیادت اپنی سلامتی کے معاملے میں انتہائی حساس ہے اور اس نے حالیہ برسوں میں دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ملک نے اپنی فوجی حکمت عملی میں جنوبی کوریا کو براہِ راست مخالف قرار دیتے ہوئے سرحدی علاقوں میں ہتھیاروں کی تعیناتی بھی بڑھا دی ہے۔
جنوبی کوریا کے مطابق شمالی کوریا اور جنوبی کوریا اب بھی تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں کیونکہ دونوں کے درمیان باقاعدہ امن معاہدہ موجود نہیں ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






