آبنائے ہرمز پر کنٹرول: امریکا کی نئے بین الاقوامی اتحاد کے قیام کے لیے کوششیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت اور جہاز رانی بحال کرنے کے لیے ایک نیا بین الاقوامی بحری اتحاد بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز، دونوں نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔

 

رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق انہیں موصول ہونے والی امریکی محکمہ خارجہ کی ایک داخلی کیبل میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے 28 اپریل کو ’میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ‘ (ایم ایف سی) نامی اس نئے فریم ورک کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔

اس دستاویز میں اسے محکمہ خارجہ اور پینٹاگون کا مشترکہ اقدام قرار دیا گیا ہے۔ بدھ کے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی اس منصوبے کی رپورٹ دی تھی۔

کیبل کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ ’یہ نیا بحری اتحاد مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بعد بحری سلامتی کے قیام کے لیے انتہائی اہم ابتدائی قدم ہے۔ یہ فریم ورک طویل مدتی توانائی کے تحفظ، اہم بحری انفراسٹرکچر کی حفاظت، اور سمندری راستوں میں جہاز رانی کے حقوق کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے‘۔

اس مشترکہ اقدام کے تحت ذمہ داریوں کی تقسیم کچھ یوں کی گئی ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ اس اتحاد کے شراکت دار ممالک اور شپنگ انڈسٹری کے درمیان ’سفارتی مرکز‘ کے طور پر کام کرے گا۔

امریکی محکمہ دفاع ’پینٹاگون‘ فلوریڈا میں قائم امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ ہیڈکوارٹر سے سمندری ٹریفک کو ریئل ٹائم مانیٹر کرے گا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہے گا۔

کیبل میں تمام امریکی سفارت خانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یکم مئی تک اپنے شراکت دار ممالک کو زبانی طور پر اس منصوبے سے آگاہ کریں اور اس میں شمولیت کی دعوت دیں۔ تاہم واضح کیا گیا ہے کہ روس، چین، بیلاروس، کیوبا اور دیگر ’امریکی حریفوں‘ کو اس معاملے سے دور رکھا جائے گا۔

دستاویز کے مطابق اس اتحاد میں شامل ممالک کی شرکت سفارت کاری، معلومات کے تبادلے، پابندیوں کے نفاذ، بحری موجودگی یا کسی اور شکل میں ہو سکتی ہے۔

کیبل میں کہا گیا ہے کہ ’ہم ہر سطح کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ہم یہ توقع نہیں کرتے کہ آپ کا ملک اس مقصد کے لیے اپنے موجودہ بحری وسائل کو دیگر علاقائی تنظیموں سے الگ کرے گا‘۔

اس کے علاوہ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ نیا اتحاد صدر ٹرمپ کی ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی اور موجودہ سفارتی مذاکرات سے بالکل الگ نوعیت کا حامل ہوگا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے ماضی میں دنیا کی کُل تیل اور گیس کی کھپت کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔ امریکا کی جانب سے اس نئے اتحاد کی تجویز تنازع کو حل کرنے کی سفارتی کوششوں میں تعطل پیدا ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسی تعطل اور کشیدگی کے باعث امریکا جوابی کارروائی کے طور پر ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر کے ایران کی تیل کی برآمدات کو محدود کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close