جنسی زیادتی کا شکار بچے اکرام اللہ نے بتایا کہ والد کی وفات کے بعد خوارج اسے اپنے ساتھ منظر خیل مرکز لے گئے، جہاں وہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے تھے۔ اس مرکز میں تین سے چار بچے اور بھی تھے، جن کے ساتھ بھی خارجی بدفعلی کرتے تھے۔ زیادہ تر خارجی افغانی تھے۔
اکرام اللہ نے مزید بتایا کہ کچھ عرصہ بعد اسے پلنگزئی لایا گیا، جہاں ایک خارجی نے مسجد میں قائم مرکز میں اسے مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ بچے نے بتایا کہ کئی خارجیوں نے اسے بار بار زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں پاک فوج نے اسے بازیاب کرایا۔
سماجی ماہرین کے مطابق خوارج کا بچوں سے جنسی استحصال اور اس کے لیے مساجد کا استعمال انتہائی مکروہ فعل ہے۔ مساجد کی بے حرمتی پر ہر مسلمان شدید دکھی ہے۔ معصوم لوگوں کے قتل عام اور بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والا فتنہ کسی رعایت کا مستحق نہیں ہو سکتا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






