ایران نے امریکا کی ممکنہ کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سے واقف پانچ ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے حساس نیوکلیئر تنصیبات کے گرد حفاظتی اقدامات میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے بعض سرنگوں کے داخلی راستے منہدم کر دیے ہیں اور اہم مقامات کو بارودی سرنگوں سے محفوظ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً آدھا ٹن انتہائی افزودہ یورینیم تک رسائی پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل اور خطرناک ہو گئی ہے، جبکہ ایک ماہ قبل یہ صورتحال نسبتاً کم پیچیدہ تھی۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ممکنہ امریکی کارروائی یا مواد کی منتقلی کے منصوبوں کو مزید مشکل بنا رہے ہیں۔
اس سے قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اشارے دیے گئے تھے کہ امریکا ممکنہ طور پر ایرانی نیوکلیئر مواد کو قبضے میں لینے یا اسے تلف کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ سی این این کے مطابق امریکی انتظامیہ ایک ایسے ممکنہ معاہدے پر بھی غور کر رہی ہے جس کے تحت ایران اپنے افزودہ یورینیم کو امریکا کے حوالے کرے گا، جہاں اسے تلف یا ملک سے باہر منتقل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم اس حوالے سے امریکی اور ایرانی حکام کے بیانات میں اختلاف پایا جاتا ہے اور کسی حتمی معاہدے کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ایران کے زیرِ زمین محفوظ ذخائر، خصوصاً اصفہان نیوکلیئر کمپلیکس، اس مواد کے اہم مراکز سمجھے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران واقعی اپنے ذخائر کو مزید منتشر یا ناقابلِ رسائی بنا دیتا ہے تو مستقبل میں ان پر مکمل نگرانی اور تصدیق مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر اعتماد کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






