//

ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نیا ٹیرف عائد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا کے 60 تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والی اشیا پر نئی درآمدی ڈیوٹیاں عائد کر دی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا نے یہ اقدام جبری مشقت کے خلاف قوانین پر عمل درآمد میں مبینہ کمزوریوں کا الزام لگاتے ہوئے کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت زیادہ تر ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد جبکہ بعض ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عالمی سپلائی چین میں جبری مشقت کے خاتمے اور امریکی کارکنوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں، تاہم کئی ممالک نے ان فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کیا گیا عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف ختم ہو گیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق نئی ڈیوٹیاں جمعہ کو رات 12 بج کر ایک منٹ پر نافذ ہوئیں، جبکہ راستے میں موجود سامان کو 28 جولائی تک رعایت دی گئی ہے۔

امریکا کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے قانون پر سختی سے عمل کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی نوعیت کے اقدامات کریں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

نئی ٹیرف پالیسی کے تحت ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور دیگر کئی ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان اور سوئٹزرلینڈ کے لیے ٹیرف کی شرح اس انداز سے مقرر کی گئی ہے کہ پہلے سے موجود درآمدی ٹیکس شامل کرنے کے بعد مجموعی شرح تقریباً 10 یا 12.5 فیصد بنتی ہے۔

دیگر 38 ممالک، جن میں ویتنام اور چین بھی شامل ہیں، کی مصنوعات پر 12.5 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔ امریکا نے چین پر سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں سے متعلق جبری مشقت کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم بیجنگ ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان نومبر 2025 کی تجارتی مفاہمت کے تحت چین پر عائد ٹیرف دوبارہ 20 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ ہے، تاہم اس سے زیادہ نہیں کیا جائے گا۔

اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے تجارتی خسارے کو کم کرنے کے لیے 10 سے 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیے تھے، لیکن امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں انہیں غیر مؤثر قرار دے دیا تھا۔ اس کے بعد نئی ڈیوٹیاں ٹریڈ ایکٹ 1974ء کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں، جنہیں قانونی طور پر زیادہ مضبوط قرار دیا جا رہا ہے۔

اس قانون کے تحت جن ممالک میں جبری مشقت کے خلاف قوانین نافذ ہیں ان پر 10 فیصد، جبکہ جہاں ایسے قوانین نافذ نہیں ہیں وہاں 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

کئی ممالک نے امریکی اقدام پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ یورپی یونین نے ان ٹیرف کو حیران کن اور غیر منصفانہ قرار دیا، جبکہ آسٹریلیا، برازیل اور ناروے نے بھی انہیں بلاجواز قرار دیتے ہوئے نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکی تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ کینیڈا اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری رابطہ جاری رکھے گا اور آئندہ ہفتوں میں مزید بات چیت کرے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی سابق تجارتی مشیر کیلی این شا نے کہا کہ نئی ٹیرف پالیسی زیادہ تر پہلے سے متوقع اقدامات کے مطابق ہے، تاہم تقریباً 471 مصنوعات کو ٹیرف سے استثنیٰ دیا گیا ہے، جس سے مجموعی معاشی اثرات میں بڑی تبدیلی کا امکان نہیں۔

امریکی حکام کے مطابق تیل، گیس، کھاد، بعض غذائی اشیا، طیارے اور ان کے پرزے، اہم معدنیات اور کچھ ایسی مصنوعات جن پر پہلے ہی قومی سلامتی کے قوانین کے تحت ٹیرف عائد ہے، نئی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

اسی طرح امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے درمیان تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات کو بھی رعایت دی گئی ہے کیونکہ ان ممالک کی سپلائی چین ایک دوسرے سے گہری طرح منسلک ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close