سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری

سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جن کے تحت عدالتی نظام میں کئی انتظامی اور ضابطہ جاتی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

اعلامیے کے مطابق ضابطہ اخلاق میں وفاقی آئینی عدالت کا نام بھی شامل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ ضابطہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور وفاقی آئینی عدالت کے ججز پر یکساں طور پر لاگو ہوگا۔

ترامیم کے تحت ججز کی سماجی اور ثقافتی تقریبات میں شرکت پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ تاہم شق 12 میں کی گئی ترمیم کے مطابق ججز اب متعلقہ چیف جسٹس کی پیشگی اجازت سے سیاسی اور سفارتی تقریبات میں شرکت کر سکیں گے، جبکہ ایسی کسی بھی تقریب میں شرکت کے لیے اجازت لینا لازمی ہوگا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹس کے ججز کے خلاف شکایات اور رپورٹس کے نظام کو بھی وسیع کیا گیا ہے۔ کسی بھی جج کے خلاف شکایت موصول ہونے پر متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دو روز کے اندر تین ججز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیں گے۔

یہ کمیٹی دو ہفتوں کے اندر اپنی کارروائی مکمل کرنے کی پابند ہوگی اور فیصلہ کرے گی۔ اگر ہائی کورٹ کی سطح پر معاملہ حل نہ ہو سکے تو کیس کو سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کو بھیجا جائے گا تاکہ مزید کارروائی کی جا سکے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close