پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد طلبہ بھی میدان میں

جکارتہ: انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں سینکڑوں طلبہ نے صدر Prabowo Subianto کی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے حکومتی اخراجاتی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے احتجاج کو “Heading to Bankrupt Indonesia” کا نام دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ملک کو غلط معاشی سمت میں لے جایا جا رہا ہے۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ سبسڈیز میں تبدیلی اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر “فیول پرائس ہائیک واپس لو” اور “غیر ضروری حکومتی اخراجات بند کرو” جیسے نعرے درج تھے۔

طلبہ رہنماؤں کے مطابق احتجاج کے پانچ بنیادی مطالبات ہیں، جن میں حکومت کے مفت خوراک پروگرام اور دیہی کوآپریٹو منصوبوں کا خاتمہ، ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی، اور غیر ضروری سرکاری اخراجات کو محدود کرنا شامل ہے۔

ایک طالب علم نے کہا کہ غیر مؤثر اخراجات اور سبسڈیز میں کمی نے ملک کی مالی صورتحال کو مزید دباؤ کا شکار بنا دیا ہے۔

دوسری جانب حکومتی ترجمان نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے اور حکومت عوامی آراء کا احترام کرتی ہے۔ ان کے مطابق غیر ضروری اخراجات میں کمی کی گئی ہے جبکہ مفت خوراک پروگرام عوامی صحت اور فلاح کے لیے شروع کیا گیا ہے۔

مظاہرے کے دوران پولیس اور فوج کی بھاری نفری تعینات رہی، جبکہ بعض مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close