ایران نے اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایران کے مطابق یہ اقدام امریکا اور اسرائیل کی جانب سے امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔
ایران کی مرکزی فوجی کمانڈ ’خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر‘ کی جانب سے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملے جنگ بندی معاہدے کے تحت طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی ’واضح خلاف ورزی‘ ہیں، جس کے بعد آبنائے ہرمز کو تمام بحری آمدورفت کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔
سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے بیان کے مطابق یہ اقدام امن معاہدے کی خلاف ورزی کے جواب میں پہلا قدم ہے، جبکہ اسرائیلی جارحیت جاری رہی تو ایران مزید اقدامات اٹھانے پر بھی مجبور ہوگا۔
امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا پہلا نکتہ تمام محاذوں پر جنگ بندی سے متعلق تھا، جس میں لبنان بھی شامل تھا۔
گزشتہ روز اسرائیل اور حزب اللہ کے حوالے سے جنگ بندی پر اتفاق کی خبر سامنے آنے کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیل نے دوبارہ جنوبی لبنان پر حملے کیے، جس سے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عبوری معاہدے کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج کے جنوبی شہر نبطیہ اور اس کے نواحی دیہات پر حملوں میں متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ کم از کم سات افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اس سے قبل امریکی انٹیلی جنس کی ایک رپورٹ میں بھی خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ نیتن یاہو امریکا-ایران امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری امن معاہدے میں فریقین نے 60 دن کے اندر ایک نئے جوہری معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں پر اتفاق کیا تھا۔
ایرانی فوج کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے اعلان سے قبل ایران-امریکا مذاکرات کے حوالے سے ایک اور پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے مطابق دونوں ملکوں کے نمائندے اگلے مرحلے کے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ہوں گے، جس میں پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
اطلاعات کے مطابق امریکا کی جانب سے صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف جبکہ ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس وقت تہران میں موجود ہیں، اور ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ان کے دورے کا مقصد آئندہ مذاکراتی مرحلے پر مشاورت ہے تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان حتمی معاہدے کا مسودہ تیار کیا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






